السلام علیکم:حضرت !عشاء کی نماز اور تروایح پڑھنے کے بعد بازار سے ہوتے ہوئے گھر آیا،واشروم گیا تو شلوار میں مذی کا نشان دیکھا، اب اس صورت میں نماز کا حکم کیاہوگا؟ ساری نماز اور تراویح دوبارہ پڑھنی ہے یا نہیں ؟جزاک اللہ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر مذی کا نشان بالکل تازہ ہو تو ایسی صورت میں نماز عشاء وتراویح کے درست ہونے کا حکم لگایا جائیگا ، چنانچہ نماز عشاء اور نماز تراویح درست ادا ہوچکی ہیں ، لیکن اگر یہ نشان پرانا ہو اور نماز عشاء سے پہلے لگنے کا یقین یا غالب گمان ہو اور یہ نشان مقدار درھم(یعنی ہاتھ کی ہتھیلی کے گڑھے)سے زائدہو توایسی صورت میں کپڑا ناپاک ہونے کی وجہ سے نماز عشاء اور تراویح درست ادا نہیں ہوئی ، لہٰذا فرض نماز کا تو اعادہ بہر صورت لازم ہے،البتہ اگر وقت باقی ہو تو نماز تراویح کا بھی اعادہ کر لیا جائے ، ورنہ وقت گزرنے پر نماز تراویح کے اعادہ کی ضرورت نہیں ۔
کما فی الدر المختار: (يجوز رفع نجاسة حقيقية عن محلها) ولو إناء أو مأكولا علم محلها أو لا (بماء لو مستعملا) به يفتى اھ(1/309)۔
وفیه ایضاً: وكذا كل ما خرج منه موجبا لوضوء أو غسل مغلظ اھ (1/318)۔
کمافی الھندیۃ: «وهي نوعان (الأول) المغلظة وعفي منها قدر الدرهم الخ (الفصل الثاني في الأعيان النجسة،ج:1،ص:45ناشر:بیروت)
وفی التاتارخانیۃ:ثم النجاسۃ علی النوعین: غلیظۃ، وخفیفۃ ، فالغلیظۃ اذا کانت قدر الدرھم او اقل فھی قلیلۃلاتمنع جواز الصلاۃ، وان کانت اکثر من قدر الدرھم منعت جواز الصلاۃ،(کتاب الطھارۃ،ج:1، ص:440، ناشر: رشیدیہ)