السلام علیکم ،مفتی صاحب!
میرا تعلق ضلع ڈیرہ اسماعیل خان صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے۔عرض یہ ہے کہ میں قسطوں پر سامان دیتا ہوں، اس پر میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں ایک موبائل دیتا ہوں قسطوں پہ جسکی قیمت 50 ہزار روپے نقد ہے اورلینے والا شخص مجھے 20 ہزار ایڈوانس دیتا ہے، تو اس پر جو میں اپنا منافع رکھو ں گا وہ بقایا رقم یعنی 30 ہزار پر منافع رکھوں گا؟ یا موبائل کی اصل قیمت یعنی 50 ہزار پر رکھوں گا؟ ویسے تو ہم چیز کی اصل قیمت پر منافع رکھ کے قیمت اور اقساط پہلے سے طے کر لیتے ہیں، مگر اگر ہم ایسا کرنا چاہیں کہ اصل قیمت کے بجائے جو کسٹمر ہمیں نقد دے اس کو اصل سے منفی کر کے بقایا رقم پر منافع لیں اور تمام چیزیں پہلے سے طے کر لیں توکیا یہ سود کے زمرے میں تو نہیں آئے گا؟ شکریہ۔
صورت مسئولہ میں سائل اگر اصل رقم اور اپنی جانب سے ملائی گئی رقم کی مجموعی مقدار یا کسٹمر کے ذمہ بقیہ رقم پر نفع کا تناسب رکھ کر درج ذیل شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے قسطوں کا معاملہ کرے تو شرعا ًاس میں کوئی حرج نہیں۔
(1) مجلس عقد میں یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا۔
(2) ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے۔
(3) یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل کتنی قسطیں ہو نگی۔
(4) کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ مشروط نہ ہوگا ۔
کما في سنن الترمذي تحت حديث أبي هريرة رضي الله عنه: نهى رسول الله ﷺ عن بيعتين في بيعة: وقد فسر بعض أهل العلم، قالوا: بيعتين في بيعة، أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما، فلا بأس إذا كانت العقدة على واحد منهما اهـ [كتاب البيوع، باب ما جاء في النهي عن بيعتين في بيعة، ج:13 ص:84 ط: دار الرسالة العالمية)]
وفی المبسوط: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي ﷺ عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اهـ [كتاب البيوع، باب البيوع الفاسدة، ج:13 ص:8 ط: دار المعرفة بيروت]
وفي بحوث في قضايا فقهية معاصرة: أما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثون، فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد، بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم، وبثمن متفق عيه عند العقد، فأما إذا قال البائع: أبيعك نقدا بكذا ونسيئة بكذا، وافتراقا على ذلك، دون أن يتفقا على تحديد واحد من السعرين، فإن مثل هذا البيع لا يجوز، ولكن إذا عين العاقدان أحد الشقين في مجلس العقد، فالبيع جائز. [أحكام البيع بالتقسيط، ج:1 ص:12 ط: دار القلم- دمشق)]
وفي شرح المجلة: البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح (إلى قوله) يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتاجيل والتقسيط (إلى قوله) يعتبر ابتداء مدة الأجل والقسط المذكورين في عقد البيع من وقت تسليم المبيع اهـ (ج:2 ص:166 -170)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0