محترم مفتی صاحب / دارالافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
گزارش ہے کہ مجھے آپ کی طرف سے میری دوست اورشی کے مسئلے پر ایک فتویٰ موصول ہوا ہے، جس کا سیریل نمبر 0/90569 ہے۔ اس تفصیلی فتوے اور رہنمائی کے لیے میں آپ کا بے حد شکر گزار ہوں۔ مجھے اس فتوے کے حوالے سے ایک اہم فقہی وضاحت درکار ہے، جس کی وجہ سے تھوڑی الجھن ہو رہی ہے۔ فتوے کے پہلے صفحے پر اردو جواب میں یہ لکھا گیا ہے کہ غیر مسلم ملک میں 3 حیض گزرنے پر نکاح ختم ہوگا، اور اس کے بعد عورت کو مزید 3 حیض عدت (یعنی کل 6 حیض) گزارنی ہوگی۔ تاہم، فتوے کے دوسرے صفحے پر "مأخذ الفتوى" میں (الکافی وغیرہ کے حوالے سے) جو عربی عبارت دی گئی ہے، اس میں واضح طور پر درج ہے:
"وهذه الحيض لا تكون عدة ... ثم إذا وقعت الفرقة قبل الدخول بها فلا عدة عليها وإن كان بعد الدخول والمرأة حربية فكذلك... وإن كانت هي المسلمة فكذلك الجواب عند أبي حنيفة..."
اس عربی حوالے سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ 3 حیض گزرنے پر جب جدائی (فرقت) واقع ہو جاتی ہے، تو اس کے بعد مزید کسی عدت کی ضرورت نہیں رہتی ( "فلا عدة عليها")۔ دیگر علمائے کرام سے بھی یہی رہنمائی مل رہی ہے کہ ابتدائی 3 حیض مکمل ہونے پر ہی نکاح ختم تصور ہوتا ہے اور عورت نئے نکاح کے لیے آزاد ہو جاتی ہے۔ بظاہر اردو جواب اور صفحہ 2 پر موجود آپ ہی کی پیش کردہ عربی عبارت میں تضاد محسوس ہو رہا ہے۔ براہِ مہربانی اس مسئلے کی تحقیق اور واضح رہنمائی فرما دیں تاکہ ہم شریعت کے مطابق صحیح عمل کر سکیں۔ کیا اورشی (جنہوں نے 21 دسمبر 2025 کو اسلام قبول کیا) صرف ابتدائی 3 حیض مکمل ہونے کے بعد نیا اسلامی نکاح کرنے کے لیے شرعاً آزاد ہوں گی؟ آپ کے تفصیلی اور واضح جواب کا انتظار رہے گا۔ جزاک اللہ خیراً۔
سائل کی طرف سے پیش کردہ اشکال کہ فتوے کے اردو متن اور اس کے مأخذ میں نقل کردہ عربی عبارات کے درمیان بظاہر تعارض محسوس ہوتا ہے۔اگرچہ درست ہے، تاہم فقہی تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ درحقیقت یہ تعارض نہیں بلکہ ائمۂ احناف کے مابین اختلافِ اقوال کا نتیجہ ہے، فقہِ حنفی کے معتبر مراجع جیسے در مختار، رد المحتار، البحر الرائق اور فتح القدیروغیرہ کی تصریحات کے مطابق دارالحرب میں اگر بیوی اسلام قبول کرلے اور شوہر اسلام قبول نہ کرے بلكہ انكار كردے تو اىسى صورت مىں نکاح فوراً ختم نہیں ہوگا، بلکہ اس نومسلمہ عورت کوتین حیض انتظارکاحکم دیاجائے گا، اور ان تین حیض (یا ان کے قائم مقام تین ماہ) گزرنے کو فرقت کا سبب قرار دیاجائے گا ۔ چنانچہ جب تین حیض گزر جائیں تو نکاح ختم ہو جائے گا۔
اب اس کے بعد عدت کے وجوب میں اختلاف ہے: امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جب تین حیض کے اختتام پر فرقت واقع ہوگئی تو اس کے بعد مزید عدت واجب نہیں، لہٰذا وہ فوراً نکاح کرنے مىں آزاد ہوگی۔ اس کے برخلاف صاحبین (امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ)کے نزدیک عورت پر عدت بھى واجب ہوگی ىعنى تىن ماہوارى لازم ہوگى، متونِ فقہیہ میں اسی اختلاف کو نقل کیا گیا ہے، اور متأخرین فقہاء نے احتیاط کے پیش نظر صاحبین کے قول کو اختیار کیا ہے۔لہٰذا مذکورہ فتوے میں جو چھ حیض (یعنی مزید تین حیض) کا ذکر آیا ہے، وہ اسی احتیاطی موقف پر مبنی ہے، نہ کہ اس معنی میں کہ پہلے تین حیض بھی عدت کےتھے؛ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پہلے تین حیض فرقت کے لیے ہیں اور بعد کے تین حیض قولِ صاحبین کے مطابق عدت کے طور پر ہیں۔
حاصل یہ کہ اگر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر عمل کیا جائے تو عورت تین حیض مکمل ہونے کے بعد ہی نکاح کے لیے شرعاً آزاد ہو جاتی ہے، اور اگر احتیاطاً قولِ صاحبین اختیار کیا جائے تو مزید تین حیض گزارنے کے بعد نکاح کیا جائے۔ احتیاط اور خروج عن الخلاف کے پیش نظر دوسرا طریقہ اولیٰ ہے،اورسائل کےسوال کے جواب میں اسی محتاط قول پرفتوی دیاگیاتھا ۔
كما في الدر المختار: ولو) (أسلم أحدهما) أي أحد المجوسيين أو امرأة الكتابي (ثمة) أي في دار الحرب وملحق بها كالبحر الملح (لم تبن حتى تحيض ثلاثا) أو تمضي ثلاثة أشهر (قبل إسلام الآخر) إقامة لشرط الفرقة مقام السبب، وليست بعدة لدخول غير المدخول بها اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (وليست بعدة) أي ليست هذه المدة عدة لأن غير المدخول بها داخلة تحت هذا الحكم، ولو كانت عدة لاختص ذلك بالمدخول بها، وهل تجب العدة بعد مضي هذه المدة، فإن كانت المرأة حربية فلا لأنه لا عدة على الحربية، وإن كانت هي المسلمة فخرجت إلينا فتمت الحيض هنا فكذلك عند أبي حنيفة خلافا لهما لأن المهاجرة لا عدة عليها عنده خلافا لهما كما سيأتي بدائع وهداية وجزم الطحاوي بوجوبها قال في البحر: وينبغي حمله على اختيار قولهما. [كتاب النكاح، باب نكاح الكافر، ج:3 ص:191، 192 ط: سعيد]
وفي البحر الرائق: (قوله: ولو أسلم أحدهما ثمة لم تبن حتى تحيض ثلاثا فإذا حاضت ثلاثا بانت) لأن الإسلام ليس سببا للفرقة، والعرض على الإسلام متعذر لقصور الولاية ولا بد من الفرقة دفعا للفساد وأقمنا شرطها وهو مضي الحيض مقام السبب كما في حفر البئر أطلقه فشمل المدخول بها وغيرها وهذا دليل على أن هذه الحيض ليست بعدة لأنها لو كانت عدة لاختصت بالمدخول بها ولم يذكر المصنف عليها بعد ذلك عدة لعدم وجوبها لأن المرأة إن كانت حربية فلا عدة عليها، وإن كانت هي المسلمة فكذلك عند أبي حنيفة خلافا لهما كما سيأتي في المهاجرة كذا في الهداية تبعا لما في المبسوط وذكر الإمام الطحاوي وجوب العدة عليها وأطلقه وينبغي حمله على اختيار قولهما. [[كتاب النكاح، باب نكاح الكافر، ج:3 ص:228، ط: دار الكتاب الإسلامي]
وفي فتح القدير: (وإذا وقعت الفرقة والمرأة حربية) بأن كان الذي أسلم هو الزوج (فلا عدة عليها، وإن كانت هي المسلمة فكذلك عند أبي حنيفة خلافا لهما) قال (وسيأتيك) يعني في مسألة المهاجرة. فالحاصل أنه لا عدة بعد البينونة عند أبي حنيفة في الصورتين، وعندهما إذا كانت هي المسلمة فعليها العدة وهكذا ذكر شمس الأئمة، وكأنه أخذه من قول محمد في السير فيما إذا أسلمت المرأة في دار الحرب بعد أن ذكر الفرقة بشرطها وعليها ثلاث حيض أخرى بعد الثلاث الأول وهي فرقة بطلاق ويقع طلاقه عليها ما دامت في العدة في الثلاث الحيض الأواخر، ثم قال محمد: وينبغي في قياس قول أبي حنيفة أن لا يكون عليها عدة اهـ [كتاب النكاح، باب نكاح أهل الشرك، ج:3 ص:422 ط: دار الفكر بيروت)]