السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، حضرت! میں نماز کی عربی میں اس طرح نیت کرتا ہوں : اُ صَلِّیْ ظُھْرَ الْیَوْمِ ،اُصَلِّیْ صَلَاۃَ الْاِشْرَاقِ ،اُصَلِّی وِتْرَ الْیَوْمِ، اگر تنہا ہوں ، اور اگر امام کے پیچھے ہوں تو" خلف الامام" کے ساتھ، جیسے : اُصَلِّیْ عَصْرَ الْیَوْمِ خَلْفَ الْاِمَامْ،اُصَلِّیْ صَلَاۃَ التَّرَاوِیْحِ خَلْفَ الْاِمَام ، میں یہ پڑھ کر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لیتا ہوں ، تو کیا میرا اس طرح نماز کی نیت کرنا درست ہے یا نہیں ؟ مذکورہ بالا صورتوں میں کچھ کمی بیشی ہے کیا؟ اس طرح نیت کرنے سے نماز ہو جائے گی کیا ؟ براہ کرم جواب مرحمت فرماکر ممنون فرمائیں۔
واضح ہو کہ نیت دل کے ارادہ کا نام ہے ،اسی بناء پر نماز شروع کرتے وقت اگر دل کا ارادہ پایا گیا تو نماز کی صحت کے لیے کافی ہے، باقاعدہ زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا ضروری نہیں، تاہم اگر زبان سے نیت کے الفاظ اداکیے جائیں تو سوال میں مذکور الفاظ سے نیت باندھنا بھی درست ہے ۔
كما في الهداية: قال: "وينوي الصلاة التي يدخل فيها بنية لا يفصل بينها وبين التحريمة بعمل" والأصل فيه قوله عليه الصلاة والسلام "الأعمال بالنيات"(الى قوله) والنية هي الإرادة والشرط أن يعلم بقلبه أي صلاة يصلي أما الذكر باللسان فلا معتبر به ويحسن ذلك لاجتماع عزيمته.اھ(باب شروط الصلاۃ ، ج: ١، ص: ٤٦، مط: دار أحياء التراث)
وفي الدر المختار: والمعتبر فيها عمل القلب اللازم للإرادة) فلا عبرة للذكر باللسان إن خالف القلب لأنه كلام لا نية، (الى قوله) (والتلفظ) عند الإرادة (بها مستحب) هو المختار،اھ(باب شروط الصلاة، ج:١، ص: ٤١٥، مط: سعيد)