احکام نماز

غلطی کی وجہ سے دو بار سورہ فاتحہ پڑھنے سے نماز کا حکم

فتوی نمبر :
93496
| تاریخ :
2026-03-25
عبادات / نماز / احکام نماز

غلطی کی وجہ سے دو بار سورہ فاتحہ پڑھنے سے نماز کا حکم

السلام علیکم،دوران امامت مجھ سے ایک غلطی ہوئی وہ یہ کہ تیسری رکعت میں کھانسی آنے کی وجہ سے مجھے ایسے لگا کہ میں نے سورۃ فاتحہ کی کوئی آیت چھوڑدی( لیکن شاید وہ میرا شک ہو) تو میں نے جلدی سے سورۃ دوبارہ پڑھ لی، سوال یہ ہے کہ نماز صحیح ہوگئی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو اب کیا حل ہے؟ جواب واضح اور مفصل ہو تو اچھی بات ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ فرض نماز کی تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا مسنون ہے، چنانچہ اس کو چھوڑنے یا مکرر پڑھنے سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا،لہذا صورت مسئولہ میں سائل کا تیسری رکعت میں فاتحہ کو مکرر پڑھنا اگر چہ خلاف اولیٰ ہے،تاہم اس سے نماز میں شرعاً کوئی خرابی نہیں آئی، بلکہ نماز درست ادا ہوگئی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: (ولها واجبات) لا تفسد بتركها وتعاد وجوبا في العمد والسهو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها يكون فاسقا (الی قولہ) (وهي) على ما ذكره أربعة عشر (قراءة فاتحة الكتاب) فيسجد للسهو بترك أكثرها لا أقلها، لكن في المجتبى يسجد بترك آية منها وهو أولى
قلت: وعليه فكل آية واجبة ككل تكبيرة عيد وتعديل ركن وإتيان كل وترك تكرير كل كما يأتي فليحفظ (وضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها، هو ثلاث آيات قصار، نحو {ثم نظر} [المدثر: 21] {ثم عبس وبسر} [المدثر: 22] {ثم أدبر واستكبر} [المدثر: 23] وكذا لو كانت الآية أو الآيتان تعدل ثلاثا قصارا ذكره الحلبي (في الأوليين من الفرض) وهل يكره في الأخريين؟ المختار لا
و فی الرد تحتہ: (قوله وهل يكره) أي ضم السورة (قوله المختار لا) أي لا يكره تحريما بل تنزيها لأنه خلاف السنة. قال في المنية وشرحها: فإن ضم السورة إلى الفاتحة ساهيا يجب عليه سجدتا السهو في قول أبي يوسف لتأخير الركوع عن محله وفي أظهر الروايات لا يجب لأن القراءة فيهما مشروعة من غير تقدير، والاقتصار على الفاتحة مسنون لا واجب. اهـ.(کتاب الصلوٰۃ،باب صفۃ الصلاۃ،مطلب واجبات الصلاۃ،ج:1، ص:459،ط:سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93496کی تصدیق کریں
0     46
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات