احکام نماز

آبائی گاؤں میں قصر یا مکمل نماز پڑھنے کے متعلق حکم

فتوی نمبر :
93618
| تاریخ :
2026-03-30
عبادات / نماز / احکام نماز

آبائی گاؤں میں قصر یا مکمل نماز پڑھنے کے متعلق حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرا نام نعمان ہے، میرا آبائی گاؤں ترنوٹی (قریب راولا کوٹ، کشمیر) ہے، جہاں میرا گھر اور زمین موجود ہے۔ میرا گھر آباد ہے، وہاں میری والدہ اور بھائی بھی رہائش پذیر ہیں، میں اپنی فیملی (بیوی اور بچوں) کے ساتھ مستقل طور پر راولپنڈی میں رہائش پذیر ہوں، جہاں میرا گھر اور کاروبار بھی ہے اور میرے بچے وہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، راولپنڈی اور ترنوٹی کے درمیان تقریباً 100 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ میری نیت یہ ہے کہ میں کچھ عرصے تک، جب تک بچوں کی تعلیم مکمل نہیں ہوتی یا کاروبار یہاں قائم ہے، راولپنڈی میں ہی رہوں گا، تاہم مستقبل میں، جیسے بڑھاپے میں یا جب کاروبار ختم ہو جائے یا بچوں کی تعلیم مکمل ہو جائے، میں اپنے آبائی گاؤں ترنوٹی میں واپس شفٹ ہونے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ نیز، میری تدفین اور ہمارے گھر میں کسی بھی فوتگی کی صورت میں تدفین بھی آبائی گاؤں میں ہی ہوگی۔
کچھ علماء کا موقف یہ ہے کہ اگر آبائی گاؤں آباد ہے اور وہاں لوگ رہائش پذیر ہیں تو وہاں نماز قصر نہیں، بلکہ پوری نماز پڑھی جائے گی، اور بعض احادیث اور فقہی روایات اس کے لیے بیان کی جاتی ہیں۔ تاہم دیگر علماء کے مطابق، مستقل رہائش اختیار کرنے والے شخص کے لیے مسافر ہونے یا قصر نماز کے مسائل مخصوص شرائط کے تابع ہوتے ہیں، اور دونوں جگہوں کو بعض علماء “اصل وطن” قرار دیتے ہیں، یعنی راولپنڈی بھی اور آبائی گاؤں بھی۔
سوال یہ ہے کہ: جب میں صرف 2–3 دن کے لیے اپنے آبائی گاؤں ترنوٹی جاتا ہوں، تو کیا میں مسافر شمار ہوں گا اور نماز قصر ادا کروں گا، یا چونکہ وہاں میرا گھر آباد ہے، والدہ اور بھائی رہائش پذیر ہیں، زمین موجود ہے اور مستقبل میں وہاں واپس جانے کا ارادہ بھی ہے، مجھے پوری نماز پڑھنی ہوگی؟ کیا آبائی تعلق یا گھر اور جائیداد ہونا شرعاً کسی جگہ کو اصلی وطن بنانے کے لیے کافی ہے؟ میری بیوی بھی میرے ساتھ راولپنڈی میں رہتی ہے، کیا اس پر بھی یہی حکم لاگو ہوگا؟ براہ کرم قرآن، سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں واضح اور مستند رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں سائل نے جب اپنے آبائی گاؤں ترنوٹی کو بالکلیہ ترک نہیں کیا ، بلکہ آئندہ گاؤں واپسی کا ارادہ رکھتا ہے، تو ایسی صورت میں سائل کا گاؤں اور راولپنڈی جہاں وہ فی الوقت اہل وعیال کے ساتھ رہائش پزیرہے دونوں مقام اس کےحق میں وطن اصلی قرارپائیں گے اور وطن اصلی شرعاً چونکہ ایک سے زائد بھی ہوسکتےہیں ،لہذا سائل جب بھی اپنے آبائی گاؤں ترنوٹی جائےگا ، اگرچہ اس کا قیام پندرہ دن سے کم ہو،تووہ پوری نمازہی پڑھے گا۔اور اس کی بیوی کابھی اس کے تابع ہو نے کی وجہ سے یہی حکم ہوگا،یعنی وہ بھی اپنے سسرال میں پوری نماز اداء کرےگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی البحر الرائق شرح کنز الدقائق: قوله (ويبطل الوطن الأصلي بمثله): (الیٰ قولہ) وروي أن عثمان رضي الله عنه كان حاجا يصلي بعرفات أربعا فاتبعوه فاعتذر، وقال: إني تأهلت بمكة وقال النبي صلى الله عليه وسلم «من تأهل ببلدة فهو منها» والوطن الأصلي هو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده، وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها وهذا الوطن يبطل بمثله لا غير، وهو أن يتوطن في بلدة أخرى وينقل الأهل إليها فيخرج الأول من أن يكون وطنا أصليا حتى لو دخله مسافرا لا يتم قيدنا بكونه انتقل عن الأول بأهله؛ لأنه لو لم ينتقل بهم، ولكنه استحدث أهلا في بلدة أخرى فإن الأول لم يبطل ويتم فيهما (الیٰ قولہ) وفي المحيط، ولو كان له أهل بالكوفة، وأهل بالبصرة فمات أهله بالبصرة وبقي له دور وعقار بالبصرة (الیٰ قولہ)، وقيل تبقى وطنا له؛ لأنها كانت وطنا له بالأهل والدار جميعا فبزوال أحدهما لا يرتفع الوطن كوطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر اهـ. (باب صلاة المسافر، ج: 2، ص: 147، مط: دار الكتاب الإسلامي)
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: ثم المرأة إنما تكون تبعا للزوج إذا أوفاها مهرها المعجل وأما إذا لم يوفها فلا تكون تبعا له قبل الدخول، الخ (الباب الخامس عشر في صلاة المسافر، ج: 1، ص: 141، مط: ماجدیۃ)
وفیھا ایضاً: ولو انتقل بأهله ومتاعه إلى بلد وبقي له دور وعقار في الأول قيل: بقي الأول وطنا له وإليه أشار محمد - رحمه الله تعالى - في الكتاب، الخ (الباب الخامس عشر في صلاة المسافر، ج: 1، ص: 142، مط: ماجدیۃ)
وفي بدائع الصنائع: ثم الوطن الأصلي يجوز أن يكون واحدا أو أكثر من ذلك بأن كان له أهل ودار في بلدتين أو أكثر، الخ (فصل بيان ما يصير المسافر به مقيما، ج: 1، ص: 103، مط: سعید کراچی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93618کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات