کیا ہم عام زندگی میں جوتے پہن کر نماز پڑھ سکتے ہیں اور اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا موقف تھا؟
نبی اکرم ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے اگرچہ جوتے پہن کر نماز ادا کرنا ثابت ہے، بلکہ احادیثِ مبارکہ میں اس کی ترغیب بھی منقول ہے، تاہم یہ اس وقت کی بات ہے جب رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسجدِ نبوی کا فرش کچا تھا اور زمین پر چھوٹے چھوٹے سنگریزے بچھے ہوتے تھے ۔موجودہ دور میں چونکہ جوتے مختلف قسم کی نجاستوں اور گندگیوں سے آلودہ ہونے کا غالب امکان رہتا ہے ،اور مساجد میں فرش، قالین اور چٹائیاں بچھائی جاتی ہیں، اس لیے فقہائے کرام نے مسجد کے اندر جوتے پہن کر داخل ہونے اور نماز پڑھنے کو مکروہ قرار دیا ہے، کیونکہ اس سے مسجد کی طہارت و نظافت کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔لہٰذا اب عام حالات میں بھی مساجد کے اندر جوتے اتار کر نماز ادا کرنی چاہیے۔
کما فی سنن أبي داود: عن عمرو بن شعيب، عن أبيه عن جدِّه قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلّي حافياً ومُنتَعِلاً .( باب الصلاة في النَّعل ج:1، ص:487، الرقم :654، مط: دار الرسالة العالمية)
وفیھا أیضاً: عن يعلى بن شداد بن أوس عن أبيه قال: قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: "خالِفُوا اليهودَ فإنَّهم لا يُصَلُّون في نِعالِهم ولا خِفافِهم" ۔(باب الصلاة في النَّعل ج:1، ص:487، الرقم :653، مط: دار الرسالة العالمية)
وفی الفتاوى الهندية: ودخول المسجد متنعلا مكروه، كذا في السراجية.اھ ( الباب الخامس في آداب المسجد ج:5،ص:319، مط: دار الفكر بيروت)۔
وفی رد المحتار على الدر المختار: تحت (قوله وصلاته فيهما) وأما المسجد النبوي فقد كان مفروشا بالحصى في زمنه صلى الله عليه وسلم بخلافه في زماننا، ولعل ذلك محمل ما في عمدة المفتي من أن دخول المسجد متنعلا من سوء الأدب تأمل الخ( باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها ج:1، ص:657، مط:دار الفكر بيروت)۔