میں یونیورسٹی کا سٹوڈنٹس ہوں اوریہاں پر اج جمعہ کا دن چونکہ بارش بہت زیادہ ہو رہی تھی تو اس لیے یونیورسٹی کی مین مسجد میں اسٹوڈنٹس نماز پڑھنے کے لیے نہیں جا سکتے تھے تو ہم نے ہاسٹل ہی میں خطبہ پڑا اور یہاں نماز پڑھی اور نماز میں تقریبا 120 سے زیادہ طلباء شریک تھے۔۔۔لیکن اسی بارش میں اس کے بعد قریب کنٹین ہے تو بچے کنٹین میں جا رہے تھے روٹی کھانے کے لیے تو کیا یہ نماز جو ہاسٹل میں پڑھی گئی مطلب بارش کی وجہ سے مین مسجد میں نہیں جا سکے لیکن اس کے بعد روٹی کے لیے جا رہے تھے تو کیا یہ نماز ہاسٹل میں پڑھنا ٹھیک تھا یا نہیں ۔
اور اس طرح بارش بہت زیادہ ہو تو جمعہ کی نماز کا کیا حکم ہے مطلب ہم یونیورسٹی کے مین مسجد میں طلباء نہیں جا سکتے تو کیا ہاسٹل میں اپنا جمعہ پڑھا سکتے ہیں
واضح ہو کہ جمعہ کی نماز کی صحت کے لیے مسجد شرعی میں اس کا قائم ہونا ضروری نہیں بلکہ صحتِ جمعہ کے دیگر شرائط پائے جانے کی صورت میں غیر مسجد میں بھی جمعہ کی نماز ادا کی جاسکتی ہے،لہذا بارش کی عذر کی وجہ سے مذکور طلباء کا مذکور ہاسٹل (اگر یہ یونیورسٹی شہر یا مضافات شہرمیں واقع ہو ) میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کی صورت میں شرعاً جمعہ کی نماز درست ادا ہوچکی ہے،مگر اقامتِ جمعہ میں چونکہ مسلمانوں کی بڑی تعداد کا ایک ساتھ جمع ہونا مطلوب ہے اس لئے جامع مسجد کو چھوڑ کر مستقل بلا عذر ہاسٹل میں جمعہ قائم کرنا درست طرز ِعمل نہیں جس سے احتراز چاہئے۔
کمافی الدر المختار:(و) السابع: (الإذن العام)من الإمام، وهو يحصل بفتح أبواب الجامع للواردين كافي فلا يضر غلق باب القلعة لعدو أو لعادة قديمة لأن الإذن العام مقرر لأهله وغلقه لمنع العدو لا المصلي، نعم لو لم يغلق لكان أحسن كما في مجمع الأنهر معزيا لشرح عيون المذاهب قال: وهذا أولى مما في البحر والمنح فليحفظ الخ(باب الجمعۃ،ج:2،ص:151،مط:ایچ ایم سعید)
وفی الھندیۃ:ولأدائها شرائط في غير المصلي) . منها المصر هكذا في الكافي، والمصر في ظاهر الرواية الموضع الذي يكون فيه مفت وقاض يقيم الحدود وينفذ الأحكام وبلغت أبنيته أبنية منى، هكذا في الظهيرية وفتاوى قاضي خان(الی قولہ)ومنها السلطان) عادلا كان أو جائرا، هكذا في التتارخانية ناقلا عن النصاب أو من أمره السلطان وهو الأمير أو القاضي أو الخطباء، كذا في العيني شرح الهداية حتى لا تجوز إقامتها بغير أمر السلطان وأمر نائبه، كذا في محيط السرخسي(الی قولہ) ومنها وقت الظهر) حتى لو خرج وقت الظهر في خلال الصلاة تفسد الجمعة(الی قولہ)(ومنها الخطبة قبلها) حتى لو صلوا بلا خطبة أو خطب قبل الوقت لم يجز، كذا في الكافي(الی قولہ) ومنها الجماعة) وأقلها ثلاثة سوى الإمام، كذا في التبيين(الی قولہ)ومنها الإذن العام) وهو أن تفتح أبواب الجامع فيؤذن للناس كافة حتى أن جماعة لو اجتمعوا في الجامع وأغلقوا أبواب المسجد على أنفسهم وجمعوا لم يجز وكذلك السلطان إذا أراد أن يجمع بحشمه في داره فإن فتح باب الدار وأذن إذنا عاما جازت صلاته شهدها العامة أو لم يشهدوها، كذا في المحيط ويكره، كذا في التتارخانية وإن لم يفتح باب الدار وأجلس البوابين عليها لم تجز لهم الجمعة، كذا في المحيط الخ(الباب السادس عشر في صلاة الجمعة،ج:1،ص:145/148،مط:مکتبہ ماجدیہ)
وفی البحر الرائق:(قوله أو مصلاه) أي مصلى المصر؛ لأنه من توابعه فكان في حكمه والحكم غير مقصور على المصلى بل يجوز في جميع أفنية المصر؛ لأنها بمنزلة المصر في حوائج أهله الخ(باب الجمعۃ،ج:2،ص:140،مط: مکتبہ رشیدیہ)