میں امام ابوحنیفہؒ کا مقلد ہوں، جبکہ ناروے میں کچھ شافعی ہے جو کہ نماز وتر کی تین رکعتیں بغیر التحیات کے پڑھتے ہیں۔ براہ مہربانی وتر کی وضاحت التحیات کے ساتھ حدیث کی روشنی میں کریں۔
عند الاحناف حدیث ذیل کی بناء پر وتر کی دوسری رکعت پر تشہدمیں بیٹھنا واجب ہے۔
ففی صحيح مسلم: عن عائشة، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم (إلی قوله) وكان يقول في كل ركعتين التحية اھ (1/ 357)