کیا نفل نماز بلاکسی عذر کے بیٹھ کر اشارہ سے پڑھنا جائز ہے ؟ اور اسی طرح سنت مؤکدہ کا بھی حکم بتادیں اور کیا سجدہ کرنا نوافل میں بھی فرض ہے یا اشارہ کفایت کر جائے گا؟
واضح ہو کہ نفل نماز میں قیام فرض نہیں ، لہٰذا نفل نماز شرعی عذر کے بغیر بھی بیٹھ کر رکوع و سجدہ کے ساتھ پڑھنا جائز ہے، اگرچہ کھڑے ہوکر پڑھنے کے مقابلہ میں اس کا ثواب نصف ہوگا۔البتہ جو شخص رکوع و سجدہ پر قادر ہو، اس کے لیے نوافل میں بھی باقاعدہ رکوع و سجدہ کرنا لازم ہے، محض اشارہ سے ادا کرنا کافی نہ ہوگا ۔ ہاں! اگر کوئی شخص اپنے شہر سے باہر سفر میں سواری پر نفل نماز پڑھ رہا ہو تو بعض شرائط کے ساتھ اشارہ سے پڑھنے کی گنجائش ہے۔جبکہ سنن مؤکدہ قیام میں فرائض کے مثل ہیں،جنہیں بغیرعذرشرعی بیٹھ کرپڑھنادرست نہیں۔
کما فی مشکاۃ المصابیح:"وعن عمران بن حصين: أنه سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن صلاة الرجل قاعداً؟ قال: «إن صلى قائماً فهو أفضل، ومن صلى قاعداً فله نصف أجر القائم، ومن صلى نائماً فله نصف أجر القاعد» رواه البخاري اھ(الفصل الأول، باب القصد في العمل،1 / 392)
وفی الدر المختارمع رد المحتار: "(وأما في النفل فتجوز على المحمل والعجلة مطلقاً)(قوله: مطلقاً) أي سواء كانت واقفةً أو سائرةً على القبلة أو لا، قادر على النزول أو لا، طرف العجلة على الدابة أو لا، اھ (2/ 42)
وفی ردالمحتار:تحت (قوله وسنة فجر في الأصح)أقول: لكن في الحلية عند الكلام على صلاة التراويح لو صلى التراويح قاعدا بلا عذر، قيل لا تجوز قياسا على سنة الفجر فإن كلا منهما سنة مؤكدة وسنة الفجر لا تجوز قاعدا من غير عذر بإجماعهم كما هو رواية الحسن عن أبي حنيفة كما صرح به في الخلاصة فكذا التراويح، وقيل يجوز والقياس على سنة الفجر غير تام فإن التراويح دونها في التأكيد فلا تجوز التسوية بينهما في ذلك. قال قاضي خان وهو الصحيح. اهـ.
وفی ردالمحتار:تحت:(قوله أي الفريضة) أراد بها ما يشمل الواجب كالوتر وما في حكمه كسنة الفجر، احترازا عما عدا ذلك من النوافل، فإنها تجوز من قعود بلا تعذر قيام.(باب صلاۃ المریض،ج:2،ص:96)