مفتی صاحب میں جس ادارے میں کام کرتا ہوں وہاں کی جو باس ہے وہ ایک لبرل و سیکولر خاتون ہے میں با جماعت نماز پڑھنے کے لیےمسجد جاتا ہوں ۔ہوا یوں کہ ایک دفعہ میں نماز کے لیے گیا اور انہوں نے مجھے کہا کہ ہماری میٹنگ تھی آپ کہاں تھے۔ میں نے کہا میں باجماعت نماز کے لیے باہر گیا تھا تو انہوں نے کہا کہ آپ ادارے کے اندر بھی تو نماز پڑھ سکتے ہیں مسجد جانے کی کیا ضرورت ہے تو میں نے کہا کہ جماعت سے نماز پڑھنا ضروری ہےا ب اکثر ہوتا ہے کہ جب بھی میٹنگ ہوتی ہے تو میں نہیں جاتا میں انتظار کرتا ہوں میٹنگ ختم ہونے کا۔تو اس میں میری جماعت چلی جاتی ہے اس ڈرسے میں نہیں جاتا کہ وہ کہیں میرا مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے جانا بند نہ کر دے اور مجھے یہ کہے کہ اپ ادارے کے اندر ہی نماز پڑھے۔ اگر میں ادارے کے اندر پڑھوں تو جماعت سے محروم ہو ں گا۔اگر کوئی باس اس طرح کریں تو شریعت کا کیا حکم ہے ؟ اور کیا مجھے ان کی پرواہ کئے بغیر اپنی نماز کیلئے جانا چاہیے گرچہ میٹنگ ہورہی ہو اور۔ مفتی صاحب اکثر ہماری میٹنگ نماز کے ٹائم ہوتی ہے ۔
واضح ہو کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنت مؤکدہ اورعملاً واجب ہے، کسی شرعی عذر کے بغیر جماعت کو ترک کرناجائزنہیں، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں میٹنگ ہونے کی وجہ سے مستقل جماعت چھوڑنا جائز نہ ہوگا، بلکہ جماعت کے ساتھ شریک ہونے کے لیے کوشش کرتے رہنا چاہیے، اور اگر میٹنگ کی وجہ سے مسجد کی جماعت چھوٹ جائے تو ادارے کے اندر نماز کے لئے متعین کردہ جگہ پر کچھ افراد جمع ہوکر باجماعت نماز ادا کر نے کا اہتمام کریں ،اوراس کے ساتھ ایسی جگہ کام کی تلاش جاری رکھے، جہاں نماز باجماعت پڑھنے کے لیے آسانی ہو۔
كما في الدرالمختار:(والجماعة سنة مؤكدة للرجال) (الى قوله) (وقيل واجبة وعليه العامة) أي عامة مشايخنا وبه جزم في التحفة وغيرها. قال في البحر: وهو الراجح عند أهل المذهب (فتسن أو تجب) ثمرته تظهر في الإثم بتركها مرة (على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج)
وفي رد المحتار:لكن في نور الإيضاح: وإذا انقطع عن الجماعة لعذر من أعذارها وكانت نيته حضورها لولا العذر يحصل له ثوابها اهـ والظاهر أن المراد به العذر المانع كالمرض والشيخوخة والفلج، بخلاف نحو المطر والطين والبرد والعمى تأمل اھ( باب الإمامة،ج:١،ص:٥٥٤/٥٥٢،ط:سعيد)
وفي حاشية الطحطاوى على مراقى الفلاح"وإذا انقطع عن الجماعة لعذر من أعذارها المبيحة للتخلف" وكانت نيته حضورها لولا العذر الحاصل "يحصل له ثوابها" لقوله صلى الله عليه وسلم: "إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوى"(الى قوله) وإنما لكل امرىء ما نوى" هو محل الشاهد على أحد ما قيل فيه والمعنى أن له ما نواه وان لم يعمله وروى العسكري في الأمثال والبيهقي في الشعب وقال إسناده ضعيف عن أنس يرفعه نية المؤمن أبلغ من عمله كما في المقاصد الحسنة والله سبحانه وتعالى أعلم وأستغفر الله العظيم اھ( كتاب الصلاة،ص:٢٩٩،ط:رشيديه)