احکام نماز

قضائے عمری کاصحیح طریقہ

فتوی نمبر :
9561
| تاریخ :
2010-09-03
عبادات / نماز / احکام نماز

قضائے عمری کاصحیح طریقہ

ایک دوست نے بتایا ہے کہ قضاء عمری یہ ہے کہ دو رکعت توبہ کے پڑھو تو ساری نمازی معاف ہو جاتی ہیں، پھر قضاء کرنے کی ضرورت نہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

محض دو رکعاتِ توبہ پڑھنے سے پوری عمر کی فوت شدہ نمازوں کی ادائیگی نہیں ہو سکتی ، مذکور قول اصولِ شرعیہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے قطعاً غلط اور بے بنیاد ہے، بلکہ ان تمام فوت شدہ نمازوں کی قضاء کرنا لازم ہے، اب اگر ہمت اور توفیق نہ ہو ، تو بوقتِ اتنقال ان کا فدیہ دیدینے کی وصیت کی جائے ، تاکہ وارث بعد میں ان کا فدیہ دیدے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی صحيح البخاري: عن أنس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم [ص:123] قال: "من نسي صلاة فليصل إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك" اھ (1/ 122)
وفی صحيح مسلم: عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا رقد أحدكم عن الصلاة، أو غفل عنها، فليصلها إذا ذكرها» اھ (1/ 477)
وفی البحر: فالأصل فیه أن کل صلاة فاتت عن الوقت بعد ثبوت وجوبها فیه فانه یلزم قضاءها سواء ترکها عمداً أو سهوا اھ (241/1)
وفی الدر المختار: (وهي) على ما في المجتبى أربعة أقسام (واجبة بالزكاة) والكفارة (و) فدية (الصيام والصلاة التي فرط فيها) اھ (6/ 648) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
لطف اللہ نصيب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 9561کی تصدیق کریں
0     623
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات