احکام نماز

قطروں کی بیماری اور نماز کا حکم

فتوی نمبر :
96607
| تاریخ :
2026-06-20
عبادات / نماز / احکام نماز

قطروں کی بیماری اور نماز کا حکم

‏مجھے پچھلے پانچ سال سے پیشاب کا مسئلہ ہے۔ ٹیسٹس وغیرہ کروانے پر انفیکشن کا پتا چلا جس کے بعد علاج کرانے سے یہ مسئلہ ٹھیک ہوگیا اب پچھلے تین سالوں سے تمام تر ٹیسٹس کلیئر ہیں ہے، لیکن مثانہ خالی کرنے میں 10 سے 15 منٹ لگ جاتے ہیں اور پانی والے کاموں سے sensation (پیشاب کے قطرے خارج ہونے کا احساس یا کیفیت کا پیدا ہونا ) ہوتی ہے۔

گھر کا بنا ہوا کاٹن پیڈ استعمال نہ کرنے پر ہر آدھے یا ایک گھنٹے بعد واش روم جانا پڑتا ہے، اور اگر جلدی باہر آ جاؤں تو قطرے لیک ہو جاتے ہیں۔ پیڈ استعمال کرنے سے جلد پر دانے (rashes) ہو جاتے ہیں۔ اس پریشانی کی وجہ سے گھر سے باہر جانے سے ڈرتی ہوں اور نماز کی ادائیگی میں بھی مشکل ہوتی ہے، اور ہر وقت یہی سوچتی رہتی ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسؤلہ میں مذکورتفصیل سے یہ واضح ہوتا ہےکہ سائلہ کو قضائے حاجت کے بعد پیشاب کے قطرے آنے کی بیماری اس درجے کی نہیں ہے کہ اسے شرعاً ’’معذور‘‘ قرار دیا جا سکے۔ لہٰذا پیشاب کے قطرے آنے کی صورت میں کپڑے صاف کرنا اور ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنا ضروری ہوگا۔
جبکہ سائلہ کو چاہئے کہ نماز کے لئے الگ لباس رکھا کریں اور نماز کے اوقات کے علاؤہ قضاء حاجت کا معمول بنانے کی عادت ڈالے تاکہ نماز پڑھتے وقت ذہن وساوس سے محفوظ رہے.

مأخَذُ الفَتوی

کما في البناية شرح الهداية: عن سليمان بن يسار: " ان امرأة أتت أم سلمة رضي الله عنها لكي تسئل لها رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الاستحاضة فقال: تدع الصلاة أيام اقرائها ثم تغتسل وتستفر بثوب وتتوضأ لكل صلوة وتصلي إلى مثل ذلك".
(كتاب الطهارة، باب الاستفاضة، ج ۱، ص ٦٦٦ ، دار الكتب العلمية)
وفي الهداية: "والمستحاضة هي التي لا تمضي عليها وقت صلوة إلا والحدث الذي ابتليت به يوجد فيه وكذا من هو في معناها أن ومن به سلس البول الخ".
(كتاب الطهارة، فصل في الاستفاضة، ج ۱، ص ٦٧ ، مکتبه لدھياتوي).
وفيه ايضا المستحاضة ومن به سلس البول والرعاف الدائم... إلى قوله... يتوضؤن لوقت كل صلوة فيصلون بذالك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل".
(كتاب الطهارة، فصل في الاستفاضة، ج ۱، ص ٦٥ ، مکتبه لدھيانوي)

وفي الدر المختار: "وصاحب العذر من به سلس البول لا يمكنه امساكه الى قوله ... بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضا ويصلي فيه خاليا عن الحدث ولو حكما، لأن انقطاع اليسير ملحق بالعدم وهذا شرط العذر في حق الابتداء وفي حق البقاء كفى وجوده في جزء الوقت ولو مرة، وفي حق الزوال يشترط استيعاب الانقطاع تمام الوقت حقيقة لأنه الانقطاع الكامل.
(كتاب الطهارة، ج ۱، ص ، مكتبة و مطبعة مصطفى البابي الحلبي)
وفي فتح القدير: والمستحاضة ومن به سلس البول (وهو لا يقدر امساكه ... إلي قوله ... يتوضؤن لوقت كل صلوة فيصلون بذالك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل.
(كتاب الطهارة، فصل في الاستفاضة، ج ۱، ص 109 ، مکتبہ رشیدیۃ)
وفي تبيين الحقائق: إن أصحاب الأعذار كمن به سلس البول والمستحاضة يصلون مع الحدث حقيقة بأن جعل الحدث الموجود حقيقة كالمعدوم حكمًا في حقهم للحاجة إلى الأداء إلخ.
(كتاب الطهارة، فصل في الاستحاضة، ج ۱، ص١٤٠ ، المطبعة الكبرى)
وفي بدائع الصنائع: وأما أصحاب الأعذار وصاحب الجرح السائل والمبطون ومن به سلس البول ... ونحو ذلك، لا يمضي عليه وقت الصلوة إلا ويوجد ما ابتلي به من الحدث فيه فخروج النجس من هولاء لا يكون حدثا في الحال ما دام وقت الصلوة قائما حتى ان المستحاضة لو توضأت في أول الوقت فلها أن تصلي ما شاءت من الفرائض والنوافل ما لم يخرج الوقت وان دام السيلان.
(كتاب الطهارة، ج ۱، ص ۳۸ ، مطبعة شركة المطبوعات العلمية مصر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
وحید اللہ خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 96607کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات