کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں عمر 60/ 62 سال، شادی شده ، میرا نا فرمان ہے ۔ اور بیوی کی باتوں میں آکر مجھے بھی مارتا ہے،اور اپنی بہن کو مارتا ہے، ماں کو گالیاں دیتا ہے ، میں اور گھر وا لے اس سے بہت پریشان ہیں، تو کیا شرعی طور پر میں اسکو گھر سے نکال سکتا ہوں؟ اپنی جائیداد سے عاق کر سکتا ہوں؟ اس سے ہمیں خطرہ ہے تو پولیس کے حوالے کر سکتا ہوں ؟ جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
سوال مىں ذكر كرده تفصيل اگر درست اور مبنى بر حقيقت ہو تو ايسى صورت مىں سائل كا بيٹا اپنے والدين اور بہن كو مارپيٹ كرنے اور گالم گلوچ كى وجہ سے سخت گناه گار ہواہے، جس پر اسے في الفور توبہ واستغفار اور والدين اور بہن سے معافى مانگنا شرعاً لازم ہے، جبكہ اگر سائل كا بيٹا اپنى ان حركتوں سے باز نہ آئے اور والدين كو تكلىف پہنچانے كا سلسلہ بدستور جارى ركھے تو چونكہ بيٹے كے عاقل بالغ اور شادى شده ہونے كے بعد اس كا نفقہ و سكنى باپ كے ذمہ لازم نہىں ، لہذا باپ اسے اپںے گھر سے الگ كرسكتا ہے، البتہ ميراث سے محروم اور عاق كرنے کا اسے اختيار حاصل نہىں ، كيونكہ ىہ شريعت كا حق ہے، جوكہ اس نے ہر وارث كے ىے مقرر كيا ہے، اور جہا ں تك بيٹے كو پوليس كے حوالے كرنے كا تعلق ہے ، تو سائل اس حوالہ سے تمام نوعيت كو واضح كرتے ہوئے اگر متعلقہ حضر ات سے راہ نمائى لے تو ىہ زياده بہتر ہے۔
كما في رد المحتار: (قوله الفقير) أي إن لم يبلغ حد الكسب، فإن بلغه كان للأب أن يؤجره أو يدفعه في حرفة ليكتسب وينفق عليه من كسبه لو كان ذكرا، بخلاف الأنثى (باب النفقة، ج: 3، ص: 612، ط: ايج ايم سعيد)
وفي الخانية: نفقة الأولاد الصغار والإناث المعسرات على الأب لا يشاركه في ذلك أحد ولا تسقط بفقره ولا يجب عليه نفقة الذكور البكار إلا أن يكون الولد عاجزا عن الكسب لزمانة أو مرض فتكون نفقته على والده (الهندية، ج: 1، ص: 445)
وفي مجمع الأنهر: (ولا غيبة لظالم) يؤذي الناس بقوله وفعله (إلى قوله) (ولا إثم في السعي به) أي بالظالم إلى السلطان ليزجره لأنه من باب النهي عن المنكر ومنع الظلم.اهـ (كتاب الكراهية، فصل في المتفرقات، ج: 2، ص: 552-556، ط: دار إحياء التراث العربي، بيروت)
وفي العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط.إلخ (كتاب الدعوى، ج: 2، ص: 26، ط: دار المعرفة)
وفي الهندية: رجل له أولاد فأقر بجميع ضياعه لولد فإنه يأثم فلو أبطل قاض إقراره إن أبطل بتأويل معتبر في الشرع وهو فقيه يجوز وإلا فلا هكذا ذكر وهذا إذا كان أولاده كلهم صلحاء أما إذا كان بعضهم فاسقا فأقر بجميع ماله للصالح فلا يأثم كذا في جواهر الفتاوى.اهـ (كتاب الكراهية، الباب الثلاثون في المتفرقات، ج: 5، ص: 381، ط: مكتبة ماجدية)