نماز میں دو سورتوں کے درمیان میں کتنی سورۃ چھوڑ سکتے ہیں ،ایک سورۃ کے بعد ایک سورۃ چھوڑ کے نماز میں دوسری سورۃ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ،کیا ہے مسئلہ؟
واضح ہو کہ فرض نماز کی پہلی رکعت میں ایک سورت پڑھنے کے بعد دوسری رکعت میں جان بوجھ کر درمیان کی صرف ایک مختصر سورت (ایسی سورت جس سے دو رکعتوں کی واجب قراءت نہ ہو سکتی ہو) چھوڑ کر اگلی سورت پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے، اگرچہ نماز ادا ہو جائے گی۔ تاہم ایسی سورت کا فاصلہ دینا جس سے دو رکعت بن سکتی ہوں تواس سے نماز بلا کراہت جائز ہوگی،نیزیہ حکم صرف فرائض کے ساتھ خاص ہے، سنت یا نفل میں ایسا کرنے سے دونوں صورتوں میں بلا کراہت نماز درست ہوگی۔
کما فی الشامیۃ: (قوله ويكره الفصل بسورة قصيرة) أما بسورة طويلة بحيث يلزم منه إطالة الركعة الثانية إطالة كثيرة فلا يكره شرح المنية: كما إذا كانت سورتان قصيرتان، وهذا لو في ركعتين اھ (فصل فی القراءۃ، ج:1، ص:546، ط:سعید)۔
وفي الهندية: وإذا جمع بين سورتين بينهما سور أو سورة واحدة في ركعة واحدة يكره وأما في ركعتين إن كان بينهما سور لا يكره وإن كان بينهما سورة واحدة قال بعضهم: يكره، وقال بعضهم: إن كانت السورة طويلة لا يكره. هكذا في المحيط كما إذا كان بينهما سورتان قصيرتان. كذا في الخلاصة (الفصل الرابع في القراءة، ج:1، ص:78، ط:ماجديه)۔