احکام نماز

مسنون طریقۂ نماز کا مکمل بیان

فتوی نمبر :
9787
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

مسنون طریقۂ نماز کا مکمل بیان

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
۱۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے مقتدی کو بھی سورتِ فاتحہ پڑھنی چاہیۓ، یا صرف ثناء پڑھ کر خاموش ہوجانا چاہیۓ؟
۲۔رکوع ، سجدے میں جاتے ہوئے مقتدی کو بھی تکبیر کہنی چاہیۓ یا نہیں؟
۳۔جب امام صاحب رکوع سے اٹھتے وقت" سمع اللہ لمن حمدہ" کہیں تو مقتدی کو بھی "سمع اللہ لمن حمدہ" کہنا چاہیۓ یا صرف" ربنا لک الحمد" کہنا چاہیۓ؟
۴۔ایک، دو یا تین رکعت رہ گئی ہوں تو مقتدی کو کیا کرنا چاہیۓ؟
۵۔پورے تشہد میں انگلی اُٹھا کر رکھنی چاہیۓ یا ’’لاالٰہ‘‘ پر اُٹھا کر ’’الا اللہ‘‘ پر گرا دینی چاہیۓ؟
۶۔درودِ ابراہیمی کے بعد دعاءِ ماثورہ پڑھنا ضروری ہے یا اور بھی کوئی دُعا پڑھ سکتے ہیں یا خاموش بھی رہ سکتے ہیں؟
۷۔مقتدی کو کیا پڑھنا چاہیۓ اور کیا نہیں پڑھنا چاہیۓ؟ براہِ کرم تفصیل سے جواب عنایت فرما دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔عند الاحناف احادیثِ صحیحہ کی رو سے امام کے پیچھے مقتدی کو صرف ثناء پڑھنی چاہیۓ ، اس کا سورتِ فاتحہ پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
۲۔جی ہاں مقتدی کا رکوع و سجود کی تکبیر کہنا بھی سنت ہے۔
۳۔مقتدی کا وظیفہ یہی ہے کہ وہ ’’ربنا لک الحمد‘‘ کہے۔
۴۔تشہد میں مسنون یہ ہے کہ درمیانی انگلی اور انگوٹھے کا حلقہ بنا کر ’’لاالہ‘‘ پر شہادت کی انگلی اُٹھا کر ’’الا اللہ‘‘ پر گرا دینی چاہیۓ۔
۵۔درودِ ابراہیمی کے بعد دعاءِ ماثورہ کے علاوہ دوسری دعائیں بھی مانگی جا سکتی ہیں ، البتہ ایسے الفاظ نہ ہو ں جو لوگوں کے کلام سے مشابہ ہوں ، جبکہ خاموش رہنا خلافِ سنت ہے۔
۶۔مقتدی امام کے پیچھے قرأت نہ کرے ، چاہے فاتحہ کی ہو یا سورت کی، البتہ ثناء ، تکبیرات ، تسبیحات ، تشہد ، درود ، دعائے قنوت وغیرہ پڑھے۔
۷۔جتنی رکعتیں رہ گئی ہیں ان میں پہلی رکعت، پہلی دو رکعتوں کی طرح سورتِ فاتحہ و سورت کے ساتھ ، اور دوسری دو رکعات یا ایک رکعت ،آخری دو رکعات کی طرح بغیر سورت ملائے پڑھےگا۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار : (و المؤتم لا يقرأ مطلقا) و لا الفاتحة (إلی قوله)(فإن قرأ كره تحريما) اھ (1/ 544)۔
و فی الدر المختار : و ثمانية تفعل مطلقا : الرفع لتحريمة و الثناء ، و تكبير انتقال ، و تسميع ، و تسبيح ، و تشهد ، و سلام ، و تكبير تشريق . اھ (2/ 12)۔
و فی الدر المختار : و ثمانية تفعل مطلقا : الرفع لتحريمة و الثناء ، و تكبير انتقال ، و تسميع ، و تسبيح ، و تشهد ، و سلام ، و تكبير تشريق . اھ و قال الشامی : تحت(قوله و تكبير انتقال) أي إلى ركوع أو سجود أو رفع منه . (2/ 12)۔
و فی الفتاوى الهندية : فإن كان إماما يقول سمع الله لمن حمده بالإجماع و إن كان مقتديا يأتي بالتحميد و لا يأتي بالتسميع بلا خلاف اھ (1/ 74)۔
و فی حاشية ابن عابدين : الثاني بسط الأصابع إلى حين الشهادة ، فيعقد عندها و يرفع السبابة عند النفي و يضعها عند الإثبات ، و هذا ما اعتمده المتأخرون لثبوته عن النبي - صلى الله عليه و سلم - بالأحاديث الصحيحة و لصحة نقله عن أئمتنا الثلاثة اھ (1/ 509)۔
و فی مراقی الفلاح : يسن "الدعاء" بعد الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم لقوله عليه السلام : "إذا صلى أحدكم فليبدأ بتحميد الله عز و جل و الثناء عليه ثم ليصل على النبي ثم ليدع بعد ما شاء" لكن لما ورد عنه صلى الله عليه و سلم : "إن صلاتنا هذه لا يصلح فيها شيء من كلام الناس" قدم هذا المانع على إباحة الدعاء بما أعجبه في الصلاة فلا يدعو فيها إلا "بما يشبه ألفاظ القرآن" اھ (۱/ ۱۰۱)۔
و فی الفقه الإسلامي و أدلته : الدعاء بعد الصلاة على النبي صلّى الله عليه و سلم : يدعو المصلي بما هو مأثور عن الرسول صلّى الله عليه و سلم عند الحنفية ، أو بما شاء من خيري الدنيا و الآخرة عند الأئمة الآخرين ، و المأثور أفضل . (2/ 908)۔
وفیه أیضا : الدعاء بعد الصلاة على النبي صلّى الله عليه و سلم بما يشبه ألفاظ القرآن و السنة . اھ (2/ 918)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 9787کی تصدیق کریں
0     804
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات