براہ کرم یہ بتائیں کہ دو شادیاں کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اسلام نے تو اجازت دی ہے، لیکن کن شرائط پر ایک آدمی دو بیویوں کے درمیان انصاف نہیں کرسکتا، کیونکہ جب وہ پہلی شادی کرتا ہے تو اس کی بیوی کو شوہر کے تمام حقوق حاصل ہوجاتے ہیں، لیکن بعد میں وہ دوسری شادی کرتاہے تو شوہر کے حقوق تقسیم ہوجاتے ہیں، ایک شوہر دو بیویوں کےساتھ ان شرائط پر انصاف نہیں کرسکتا، جن پر ہمارے نبی کریمﷺ نے کیا تھا، میری نظر میں یہ جائز نہیں ہے ایک ایسے انسان کیلیے جو آج کل کے معاشرے میں رہتاہے، میں نے دو شادیوں کیلیے اپنی بھر پور کوشش کی تھی، لیکن آج کل کے معاشرے کے آدمی کیلیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ دو بیویوں کے درمیان انصاف کرے، اس کی وجہ ہے کہ اس کودوسری بیوی سے زیادہ محبت اور کشش ہوتی ہے بنسبت پہلی بیوی کے، اس کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ پہلی بیوی کے حقوق کی حق تلفی ہے، براہِ کرم شریعت اور قرآن مجید کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ!
جو شخص دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو اور شادی کے بعد ان بیویوں کے حقوق واجبہ مثلاً نان نفقہ ورہائش وغیرہ کی ادائیگی میں بقدرِ استطاعت برابری رکنے پر بھی قادر ہو تو اس کیلیے دو کیا چار شادیاں کرنے کی بھی شرعاً اجازت ہے اور کئی لوگ ایسے دیکھے گئے جو بخوبی انصاف اور حقوق کی ادائیگی کرر ہے ہیں، لہٰذا سائل کا محض چند لوگوں کے عمل کو دیکھ کر دوسری شادی کا انکار قطعاً درست نہیں۔
في الفقه الأسلامي وأدلته: اشترطت الشريعة لإباحة التعدد شرطين جوهريين هما:
1 - توفير العدل بين الزوجات: أي العدل الذي يستطيعه الإنسان، ويقدر عليه، وهو التسوية بين الزوجات في النواحي المادية من نفقة وحسن معاشرة ومبيت (ٳلی قوله) وليس المراد بالعدل ـ كما بان في أحكام الزواج الصحيح ـ هو التسوية في العاطفة والمحبة والميل القلبي، فهوغير مراد؛ لأنه غير مستطاع ولا مقدور لأحد، والشرع إنما يكلف بما هو مقدور للإنسان، فلا تكليف بالأمور الجبلِّية الفطرية التي لا تخضع للإرادة مثل الحب والبغض اھ (۸/۱۶۸)۔
وفی الفتاوى الهندية: ومما يجب على الأزواج للنساء العدل والتسوية بينهن فيما يملكه والبيتوتة عندها للصحبة والمؤانسة لا فيما لا يملك وهو الحب والجماع كذا في فتاوى قاضي خان. (1/ 340) واللہ اعلم بالصواب!