السلام علیکم! محترم مفتی صاحب، میں دیوبند کے عقیدے کا ہوں میرا نکاح ایک ذکری لڑکی سے دو سال پہلےہوا ،جس سے میری دو بیٹیاں ہیں، نکاح تو مسجد کے پیش امام نے پڑھایا جو ہمارے عقیدے کاہے،دو گواہ میری طرف سے تھے، جو میرے عقیدے کے تھے اور دو لڑکی کی طرف سے، اس کے عقیدے کے تھے ،جس کو شادی کے بعد میں نے کلمہ پڑھایا، کیا میرا نکاح ہوا یا نہیں؟اس کے بارے میں تفصیل سےبتائیں۔اگرنہیں ہوا تو مجھے کیا کرنا چاہیئے؟
ذکری اپنے فاسدہ اور کفریہ عقائد کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہیں،اس لئےصورت مسؤلہ میں مذکور نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوا، اب تجدید نکاح سے بھی کام نہیں بنے گا ا لا یہ کہ مذکورخاتون بصدق دل اپنے کفریہ عقائد سے تائب ہواور سائل اس کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں عقد نکاح کرے ۔
کما فی رد المحتار: (قوله: وحرم نكاح الوثنية) ويدخل في عبدة الأوثان عبدة الشمس والنجوم والصور التي استحسنوها والمعطلة والزنادقة والباطنية والإباحية. وفي شرح الوجيز وكل مذهب يكفر به معتقده. اهـ.
قلت: وشمل ذلك الدروز والنصيرية والتيامنة، فلا تحل مناكحتهم الخ(3/ 45)