نکاح

ذکری لڑکی سے کیے جانے والے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
11299
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

ذکری لڑکی سے کیے جانے والے نکاح کا حکم

السلام علیکم! محترم مفتی صاحب، میں دیوبند کے عقیدے کا ہوں میرا نکاح ایک ذکری لڑکی سے دو سال پہلے‬‎‎ہوا ،جس سے میری دو بیٹیاں ہیں، نکاح تو مسجد کے پیش امام نے پڑھایا جو ہمارے عقیدے کاہے،‬دو گواہ میری طرف سے تھے، جو میرے عقیدے کے تھے اور دو لڑکی کی طرف سے، اس کے عقیدے کے تھے ،جس کو شادی کے بعد میں نے کلمہ پڑھایا، کیا میرا نکاح ہوا یا نہیں؟اس کے بارے میں تفصیل سےبتائیں۔‬‎‎‬‎اگرنہیں ہوا تو مجھے کیا کرنا چاہیئے؟‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ذکری اپنے فاسدہ اور کفریہ عقائد کی وجہ سے‬‎‎ دائرہ اسلام سے خارج ہیں،اس لئے‬‎‎صورت مسؤلہ میں مذکور نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوا، اب تجدید نکاح سے بھی کام نہیں بنے گا ا لا یہ کہ مذکور‬‎‎خاتون بصدق دل اپنے کفریہ عقائد سے تائب ہواور سائل اس کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں عقد نکاح کرے ۔‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار: (قوله: وحرم نكاح الوثنية) ويدخل في عبدة الأوثان عبدة الشمس والنجوم والصور التي استحسنوها والمعطلة والزنادقة والباطنية والإباحية. وفي شرح الوجيز وكل مذهب يكفر به معتقده. اهـ.
قلت: وشمل ذلك الدروز والنصيرية والتيامنة، فلا تحل مناكحتهم الخ(3/ 45)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شاہ نواز عباس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 11299کی تصدیق کریں
0     480
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات