السلام علیکم !
ایک مرد و عورت زنا کرتے ہیں اس کے بعد مرد اسی عورت سے نکاح کر لیتا ہے لیکن نکاح کے بعد وہ نہیں ملے اور مرد کسی بات پر غصہ میں آکر فون پر ایک طلاق دے دیتا ہے اور عورت سے کہتا ہے عدت پوری کرو اور عورت ہر ممکن نباہ کرنا چاہتی ہے ، آپ بتائیں کہ زنا کے بعد نکاح جائز تھا ؟ اب وہ عورت کیا کرے بڑی مہربانی ہوگی ۔
زنا اگرچہ ایک قبیح اور شرعاً حرام عمل ہے لیکن اس کے بعد بھی زانی اور مزنیہ کا آپس میں نکاح کرنا درست تھا،بشر طیکہ گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ نکاح ہوا ہو پھر اس نکاح کے بعد اگر دوبارہ ملنے اور رخصتی سے پہلے شوہر نے طلاق دیدی تو یہ طلاق بائن ہو گئی ہے جس کا حکم یہ ہیکہ اس طلاق کے بعد زوجین کا نکاح ختم ہو چکا اب عورت بغیر عدت گزارے بھی دوسری جگہ شادی کرنا چاہے تو کر سکتی ہے ،اور اگر اسی شخص سے دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو شرعاً یہ بھی درست ہے، جبکہ ان دونوں کو اپنے سابقہ گناہ پر بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کیلئے اس طرح کے گھناؤنے عمل سے اجتناب کی ضرورت ہے۔
كما في رد المختار : ولو نكحها الزاني حل له وطؤها اتفاقا (ج ٣ ٤ ) –
وفي الهندية : إذا كان الطلاق با ئنا دون الثلاث فله أن تتزوجها في العدة وبعد انقضاءها (1/472)۔
وفي رد المختار: وتصح (الرجعة) بتزوجها في العدة ان لم يطلق بائنا فإن أبانھا فلا اھ(3/399)۔