رمضان میں ایک شخص عشاء کی نماز باجماعت نہیں پڑھ سکا ، بعد میں اس نے فرض ادا کیے اور پھر تراویح کی نماز میں شریک ہوا , تراویح کی نماز کے بعد وتر کی نماز باجماعت پڑھی تو کیا اس طرح کرنا درست ہے؟
جی ہاں! اس کی نماز جائز اور درست ادا ہو گئی ہے، مگر اس کی عادت اور معمول بنانے سے احتراز چاہیئے۔
ففی الفتاوى الهندية: صلى العشاء وحده فله أن يصلي التراويح مع الإمام ولو تركوا الجماعة في الفرض ليس لهم أن يصلوا التراويح بجماعة اھ (1/ 117)
و فی حاشية ابن عابدين : أما لو صليت بجماعة الفرض و كان رجل قد صلى الفرض وحده فله أن يصليها مع ذلك الإمام لأن جماعتهم مشروعة فله الدخول فيها معهم لعدم المحذور اھ (2/ 48)
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0