احکام نماز

وقت کی تنگی کی وجہ سے صرف فرض پڑھ کر سنن چھوڑنا

فتوی نمبر :
13435
| تاریخ :
2011-09-16
عبادات / نماز / احکام نماز

وقت کی تنگی کی وجہ سے صرف فرض پڑھ کر سنن چھوڑنا

میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میری فجر کی نماز میں آنکھ دیر سے کھلی، جب میں اُٹھاتو اس وقت فجر کی نماز قضاء (یعنی نماز کا وقت ختم ہونے میں تقریباً ۷ منٹ تھے) تو میں نے جلدی سے اُٹھ کر وضو کر کے صرف فرض ادا کیے، اور سنتیں ادا نہیں کی تو کیا میری نماز ہو گئی؟
مجھے یہ بھی بتائےکہ جو سنتیں رہ گئی ہے ان کا کیا ہوگا؟ کیا وہ پڑھنی ہے؟ اگر پڑھنی ہوتی ہے تو پھر کس وقت وہ سنتیں پڑھنی ہوتی ہیں؟ میں نے تو کئی دن ہو گئے وہ سنتیں ادا نہیں کی؟ میرے لیے اب کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

فرض نماز ادا ہو گئی، جبکہ سنتیں جو رہ گئیں ان کی قضاء لازم نہیں، البتہ اگر تلافی کے طور پر پڑھ لی جائیں کہ سنت چھوڑنے کی عادت نہ پڑے تو بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: (ولا يقضيها إلا بطريق التبعية ل) قضاء (فرضها قبل الزوال لا بعده في الأصح) اھ (2/ 57)واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
راشد بشیر عباسی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 13435کی تصدیق کریں
1     1195
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات