۱۔ میرا سوال یہ ہے کہ نماز کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ بال جو ہے وہ کم ازکم چاول کے دانے کے برابر ہو تو نماز ہوتی، لیکن چاول کے دانے تو چھوٹے ، بڑےہوتے ہیں، آپ کسی اور چیز سے بتائیں، اس کی مقدار کیا ہے؟ کہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجائیں۔
۲۔ اور وہاں یہ کریم جو آتی ہے بال صاف کرنے کے لیے (EU Krwam) یا پھر (anch French) تو اس سے بال صاف کرنا جائز ہے اسلام میں ؟ براہِ کرم ضرور جواب دیں۔
۱۔ مذکور بات نماز کی شرائط میں سے نہیں، بال لمبے ہونے کی حالت میں بھی نماز ہو جاتی ہے، البتہ مستحب یہ ہے کہ ہفتہ یا پندرہ دِنوں میں ایک مرتبہ صفائی کی جائے، اور بدن کے زائد بال چالیس دِن سے زیادہ نہ رہنے دے کہ یہ گناہ کی بات ہے۔
۲۔ بالوں کی صفائی کے لیے کریم کا استعمال بھی جائز ہے۔
ففی الدر المختار: (و) يستحب (حلق عانته وتنظيف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة) والأفضل يوم الجمعة وجاز في كل خمسة عشرة وكره تركه وراء الأربعين اھ (6/ 406)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله ويستحب حلق عانته) قال في الهندية ويبتدئ من تحت السرة ولو عالج بالنورة يجوز كذا في الغرائب وفي الأشباه والسنة في عانة المرأة النتف (قوله وتنظيف بدنه) بنحو إزالة الشعر من إبطيه ويجوز فيه الحلق اھ (6/ 406)