میری بیوی جرمنی میں فقہ حنفی چھوڑ کراحمدی /قادیانی بن گئی ہے ۔ اس کے ساتھ نکاح کا حکم شرعی کیا ہو سکتا ہے؟ جبکہ میں فقہ حنفی سے تعلق رکھتا ہوں، اس صور ت میں کیا میرا اسلامی رشتہ اس سے ختم ہو گیا ہے؟ براہ مہربانی میری رہنمائی فرمائیں۔
قادیانی اپنے باطل عقائدونظریات کی وجہ سے بالاتفاق کافر و زندیق ہیں۔اور کسی مسلمان سنی حنفی لڑکی کاان کی طرف جانا قطعاً ناجائز وحرام، بلکہ کفر ہے ،لہٰذا صورت مسئولہ میں سائل پر لازم ہے کہ اپنی بیوی کو حکمت و بصیرت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرے اور اس کے اشکالات دور کرکے اس کو اسلام کی طرف لانے پر مجبور کرے ،اگر اسکے باوجود وہ اپنے کفر پر مصر رہے تو اس کے قادیانی ہو نے کی وجہ سے ان کا باہم عقد نکا ح ختم ہو چکا ہے ، ایسی بدترین خلائق کو اپنے سے علیحدہ کرے اور اپنے بچےاس سے لے لے ۔
کما فی مرقاة المفاتيح: إذا رأى منكرا معلوما من الدين بالضرورة فلم ينكره ولم يكرهه ورضي به واستحسنه كان كافرا- (15 / 3)
وفی شرح فقہ الأکبر: ودعویٰ النبوۃ بعد بینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالإجماع اھ (ص: ۱۶۴)
وفی الفتاوى الهندية: لا يجوز نكاح المجوسيات ولا الوثنيات (إلی قولہ) وكل مذهب يكفر به معتقده، (1 / 281) واللہ ٲعلم بالصواب!