السلام علیکم !
اگر کوئی کسی نامحرم کو قرآن کی قسم کھا کر اپنے لئے حرام کہہ دے تو کیا اس سے وہ لڑکا یا لڑکی ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں یا پھر اس طرح کی قسم کا بھی کفارہ ادا کر کے وہ ایک دوسرے سے نکاح کر سکتے ہیں؟ مثلاً جیسے کوئی کہے کہ فلاں مجھ پر تا قیامت حرام ہے اور دینی اعتبار سے سے ان دونوں کا آپس میں نکاح جائز بھی ہے۔
مذکور قسم کے الفاظ کہہ دینے سے غیر محرم لڑکی اور لڑکے کا باہم عقدِ نکاح اگر چہ شرعاً ناجائز نہیں ہوتا اور نہ ان کے درمیان کے پردے کا حکم ساقط ہوتا ہے، البتہ اس قسم کے الفاظ قسم کے ہیں اس کے بعد نکاح کرنے سے کفارہ لازم ہو گا ۔
قال الله تعالى: وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ (النساء : 24)
وفی الدر المختار: (ومن حرم) أي على نفسه (إلی قوله) (شيئا) ولو حراما أو ملك غيره (إلی قوله) (ثم فعله) بأكل أو نفقة، ولو تصدق أو وهب لم يحنث بحكم العرف زيلعي (كفر) ليمينه۔اھ (3/729)