نکاح

کسی لڑکی سے نکاح نہ کرنے کی قسم کھانے کے بعد اس سےنکاح کاحکم

فتوی نمبر :
15719
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کسی لڑکی سے نکاح نہ کرنے کی قسم کھانے کے بعد اس سےنکاح کاحکم

السلام علیکم !
اگر کوئی کسی نامحرم کو قرآن کی قسم کھا کر اپنے لئے حرام کہہ دے تو کیا اس سے وہ لڑکا یا لڑکی ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں یا پھر اس طرح کی قسم کا بھی کفارہ ادا کر کے وہ ایک دوسرے سے نکاح کر سکتے ہیں؟ مثلاً جیسے کوئی کہے کہ فلاں مجھ پر تا قیامت حرام ہے اور دینی اعتبار سے سے ان دونوں کا آپس میں نکاح جائز بھی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور قسم کے الفاظ کہہ دینے سے غیر محرم لڑکی اور لڑکے کا باہم عقدِ نکاح اگر چہ شرعاً ناجائز نہیں ہوتا اور نہ ان کے درمیان کے پردے کا حکم ساقط ہوتا ہے، البتہ اس قسم کے الفاظ قسم کے ہیں اس کے بعد نکاح کرنے سے کفارہ لازم ہو گا ۔

مأخَذُ الفَتوی

قال الله تعالى: وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ (النساء : 24)
وفی الدر المختار: (ومن حرم) أي على نفسه (إلی قوله) (شيئا) ولو حراما أو ملك غيره (إلی قوله) (ثم فعله) بأكل أو نفقة، ولو تصدق أو وهب لم يحنث بحكم العرف زيلعي (كفر) ليمينه۔اھ (3/729)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 15719کی تصدیق کریں
0     753
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات