کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازِ تراویح میں اکثر لوگوں کو شکایت ہوتی ہے کہ حافظ صاحب نماز لمبی پڑھاتے ہیں، جس کی وجہ سے مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ جناب تراویح کی نماز قرآن کی قرأت میں تو تخفیف نہیں کی جا سکتی، آیا ہم تشہد اور درود شریف میں تخفیف کر سکتے ہیں؟ جواز اور عدم جواز کی تفصیل سے آگاہ فرما دیں۔
تخفیف سے مراد اگر چھوڑ دینا ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ تشہد کا بالکل چھوڑ دینا درست نہیں، البتہ درود شریف اور بعد کی ادعیہ ترک کی جا سکتی ہیں، مگر اس کومعمول بنا لینا بھی درست نہیں، جبکہ امام صاحب کو چاہیے کہ وہ ارکانِ نماز کی ادائیگی میں مقتدیوں کے لیے آسانی کا بھی خیال رکھیں۔
ففی حاشية ابن عابدين: (قوله التي لا تصح بدونها) صفة كاشفة إذ لا شيء من الفروض ما تصح الصلاة بدونه بلا عذر اھ (1/ 442)
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0