السلام علیکم!
حضرت میرا سوال یہ ہے کہ مسجد میں امام مقرر ہو اور حافظ بھی ہو , تو کیا رمضان میں تراویح ان کی اقتداء میں سننا بہتر ہے یا تراویح کے لئے کوئی اور حافظ کا رکھنا صحیح ہے ؟ میرے گاؤں میں لوگوں کا مشورہ ہے کہ مسجد میں امام رکھوں، مگر یہ بات پہلے بتا دوں کہ تراویح کے لئے کوئی اور حافظ رہےگا، لہٰذا اس موضوع پر قرآن و حدیث کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔
جس مسجد کا امام مقرر ہو اور وہ حافظ بھی ہو اُسے منزل بھی یاد ہو اور وہ خود سنانا بھی چاہتا ہو تو تراویح میں قرآن پاک سنانے کا حق اُسی کا ہے، اس کی مرضی کے خلاف دوسرے کو تراویح کے لئے مقرر کرنا حق تلفی ہونے کی بناء پر درست نہیں، البتہ امام حافظ نہ ہو یا وہ کسی بھی وجہ سے خود منزل سنانے سے احتراز کرے تو ایسی صورت میں تراویح کے لئے دوسرے کسی کو مقرر کرنا درست ہے۔
فی الدر المختار: (و) اعلم أن (صاحب البيت) و مثله إمام المسجد الراتب (أولى بالإمامة من غيره) مطلقا اھ (1/ 559)-
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله مطلقا) أي وإن كان غيره من الحاضرين من هو أعلم وأقرأ منه. (1/ 559)
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0