آپ سے گزارش ہے کہ آٹھ رکعت نمازِ تراویح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ یہ کس کس ملک میں پڑھی جاتی ہے؟
رمضان المبارک میں بیس رکعات تراویح پڑھنا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور حضرات صحابہ کرام کا بھی اسی پر اجماع ہے اور خیرالقرون سے آج تک بیس رکعات تراویح کو جماعت کے ساتھ پڑھنے پر تمام امت مسلمہ کا تعامل ہے ۔
ففي السنن الكبرى: عن ابى هريرة قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا أناس في رمضان يصلون في ناحية المسجد فقال ما هؤلاء فقيل لهؤلاء أناس ليس معهم قرآن وأبي بن كعب يصلى وهم يصلون بصلاته فقال النبي صلى الله عليه وسلم أصابوا ونعم ما صنعوا(الحديث)-
وفيه ايضا: عن السائب بن يزيد قال : كانوا يقومون على عهد عمر في شهر رمضان بعشرين ركعة - الخ. ( ج 2/697)۔
وفی الدر المختار: الترویح سىنة موکدة لمواظبة الخلفاء الرشدین للرجال والنساء اجماعاً (الی قولہ) وھی عشروں رکعة(2/44)۔
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0