مفتی صاحب! اگر امام تراویح میں چار رکعات ایک ساتھ پڑھائے اور آخر میں سجدۂ سہو کر لے تو کیا یہ درست ہوگا ؟ چاروں رکعات ادا ہو جائیں گی یا وہ دو شمار ہوں گے؟
اگر قصداً دو کی بجائے چار رکعات پڑھائی ہوں تو سجدۂ سہو کی ضرورت نہیں، بلاشبہ چار رکعات ہی شمار ہوں گی۔
فی الفتاوى الهندية : في الفتاوى و لو صلى أربعا بتسليمة و لم يقعد في الثانية ففي الاستحسان لا تفسد و هو أظهر الروايتين عن أبي حنيفة و أبي يوسف - رحمهما الله تعالى - و إذا لم تفسد قال محمد بن الفضل تنوب الأربع عن تسليمة واحدة و هو الصحيح اھ (1/ 118)
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0