نکاح

کورٹ میرج میں کرایہ کے گواہوں کے سامنے کیے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
16455
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کورٹ میرج میں کرایہ کے گواہوں کے سامنے کیے ہوئے نکاح کا حکم

کیا گواہوں کے بغیر نکاح ہوجاتا ہے؟آج کل جو کورٹ میں نکاح ہوتے ہیں،وہاں جو گواہ ہوتے ہیں،پیسوں سے مل جاتے ہیں،ایسے نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صحتِ نکاح کیلئے مجلسِ نکاح میں گواہوں کی موجودگی اور ایجاب وقبول کو ایک ساتھ سننا شرط ہے،لہذا مذکور نکاح اگر کفوء میں اور مہرِ مثل پر گواہان کی موجودگی میں ہو،اگرچہ گواہان کرائے کے ہی ہوں تو یہ بلاشبہ درست منعقد ہوجائےگا،ورنہ نہیں،تاہم اپنے اولیاء اور والدین کی بہ خوشی اجازت ورضامندی کے بغیر ہونے والے نکاح عموماً ناپائیدار ہوتے ہیں اور جلد ہی علیحدگی اور طلاق پر منتج ہوجاتے ہیں،اسلئے والدین کی اجازت کے بغیر نکاح کروانے سے احتراز چاہئیے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: وشرط(حضور) شاھدین مسلمین لنکاح مسلمة أو فاسقین أو محدودین فی قذف اھ (3/21)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 16455کی تصدیق کریں
0     686
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات