نکاح

سیدہ لڑکی کا غیر کفؤ میں نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
16606
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

سیدہ لڑکی کا غیر کفؤ میں نکاح کا حکم

کیا ایک سید لڑکی اور غیر سید لڑکا ہم کفؤ ہوسکتے ہیں؟ اگر ہم کفؤ ہونے میں باقی چیزوں کے ساتھ ساتھ حسب، نسب کو بھی دیکھا جاتا ہے تو پھر سید اور غیر سید کیسے ہم کفؤ ہوسکتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کفاءت میں جن چیزوں کا اعتبار کیا جاتا ہے، ان میں ایک حسب نسب بھی ہے، اسی بنا پر غیر سید لڑکا سید لڑکی کا کفو، اور ہم پلہ نہیں، اس لئے کسی بھی سید لڑکی کا اپنے اولیاء کی اجازت کے بغیر کسی غیر سید لڑکے سے نکاح کرلینا جائز نہیں، اور نہ ہی یہ شرعاً معتبر ہے، اولیاء ایسے نکاح کی صورت میں تفریق کرواسکتے ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (وتعتبر) الکفاءۃ للزوم النکاح خلافاً لمالک ( نسباً )فقریش بعضھم (اکفاء) بعض اھ (3/86)۔
و فی الفتاوى الهندية : ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخرا وقول محمد - رحمه الله تعالى - آخرا أيضا حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك ولكن للأولياء حق الاعتراض وروى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أن النكاح لا ينعقد وبه أخذ كثير من مشايخنا رحمهم الله تعالى، كذا في المحيط والمختار في زماننا للفتوى رواية الحسن(1/ 292)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
موسی محمد عمر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 16606کی تصدیق کریں
0     566
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات