السلام علیکم!
مفتی صاحب میں فتویٰ لینا چاہتی ہوں، میرے شوہر نے اپنی ممانی کا دودھ پیا ہے، میری ساس بیمار تھی تو ان کی بھابھی نے میرے شوہر کو دودھ پلایاتھا، کیا میرے شوہر کا اپنی ممانی کی بیٹی کی بیٹی سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر جائز نہ ہو اور انہوں نے نکاح کیا ہو تو انکے لئے کیا حکم ہے ؟
سائلہ کے شوہر نے اگر مدت رضاعت میں اپنی ممانی کا دودھ پیا ہو تو ممانی کی تمام لڑکیاں اسکی رضاعی بہنیں بن چکی ہیں، اور انکی بیٹیاں رضاعی بھانجیاں ، اس لئے اب سائلہ کے شوہر کا اپنی رضاعی بھانجیوں میں سے کسی کے ساتھ بھی نکاح کرنا ایسا ہی حرام ہے جیسا کہ حقیقی بھانجی کے ساتھ حرام ہوتا ہے اور اگرلا علمی میں یہ نکاح ہو چکا ہو تو وہ نکاح فاسد اور باطل ہے، اس سے علیحدگی لازم ہے، جبکہ ایسی صورت اسے چاہیئے کہ وہ متارکہ کے الفاظ ” میں نے آزاد کر دیا ، چھوڑ دیا وغیرہ “ بول کر اسے اپنے سےعلیحدہ کر دے ۔
کما في مشكاة المصابيح: عن عائشةؓ قالت: قال رسول الله ﷺ: «يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة» . رواه البخاري۔الحدیث (2/ 945)
وفی الفتاوى الهندية: يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا۔اھ (1/ 343)