السلام علیکم !میں ختم بخاری شریف کے متعلق پوچھنا چاہتاہوں۔ہمارے مدارس میں جس کاانعقاد کیا جاتا ہے کیا یہ بدعت نہیں ہے؟کیونکہ صحابہ کرام،تابعین،تبع تابعین یا امام بخاری (علیہم االرضوان )ان میں سے کسی نے اس کااہتمام کیاہے؟میں صرف گزشتہ 20،10سالوں میں دیکھ رہا ہوں کہ ان کا کثرت سے انعقاد کیا جارہاہے ۔براہ کرم مجھے اس بدعت کے متعلق وضاحت کردیں ۔جزاک اللہ!
ختم بخاری شریف علماء کے ہاں نہ تو واجب ہے اور نہ ہی فرض، بلکہ لزوم کے اعتقاد کے بغیر بخاری شریف کی آخری حدیث کے موقع پر اجتماع منعقد کیا جاتا ہے جس میں علماء وطلباءکے علاوہ عوام بھی شرکت کرتی ہے ۔مشائخ بیانات کرتے ہیں اور آخرمیں دعا سے یہ اجتماع ختم ہو جاتاہے اور اس اجتماع کی بڑی وجہ یہ بھی ہے تجربہ شاہد ہے کہ ختم بخاری پر دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ لہٰذا ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ اس تقریب سعید میں شامل ہو جائے اس سے زیادہ اس کی کچھ حیثیت نہیں ۔البتہ اگر کوئی اس کو دین کا حصہ یالازم سمجھ کر کرتاہونہ کرنےوالے پر نکیر یا ملامت کرتاہویا اس میں غیر مشروع امور کا ارتکاب کیا جاتا ہو تو اس کے بدعت ہو نے اور واجب الترک ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔واللہ أعلم بالصواب!
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1