میں نے ایک لڑکی سے نکاح کیا، میرے چار دوست تھے، اُن میں سے ایک نکاح خواں اور تین مدرسہ کے طالب علم تھے، نکاح خواں نے لڑکی سے تین مرتبہ پوچھا اور میرا نام لے کر کہا کہ یہ تمہیں قبول ہے ؟ لڑکی نے کہا کہ ہاں قبول ہے ، اس کے بعد میں نے تین بار قبول کیا، لیکن جب نکاح خواں نے خطبہ پڑھا تو وہ درمیان میں بھول گیا اور باقی خطبہ مدرسہ کے طالب علم نے پڑھا، پوچھنایہ ہے کہ اس طرح میرا نکاح ہو گیا ؟
اگر سائل لڑکی کا مالی، خاندانی وغیرہ امور کے اعتبار سے کفؤ اور برابر کا نہ ہو اور نکاح بھی لڑکی کے اولیاء کی اجازت کے بغیر کرایا گیا ہو تو یہ نکاح شرعاً سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا، جبکہ مذکور لڑکا، لڑکی اور مجلسِ نکاح میں شریک تمام افراد گناہ گار ہوئے ہیں، اُن پر بصدق دل تو بہ واستغفار لازم ہے ۔
کما فی الدر المختار: (ويفتى) في غير الكفء (بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان)۔اھ (3/ 56)
وفی الفتاوى الهندية: ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخرا وقول محمد - رحمه الله تعالى - آخرا أيضا حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك ولكن للأولياء حق الاعتراض وروى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أن النكاح لا ينعقد وبه أخذ كثير من مشايخنا رحمهم الله تعالى، كذا في المحيط والمختار في زماننا للفتوى رواية الحسن۔اھ (1/ 292)