کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مدرسہ خلفائے راشین جو ماچ گوٹھ میں واقع ہے اس کے طلباء کے لئے صرف , مدرسے میں ایک پانی کا ٹینک ہے جو پانی کا بھرواکر محلے کے لوگوں پر فروخت کرتے ہیں تقریباً تیس چالیس ہزار روپے اس کے آجاتے ہیں اب پوچھنا یہ ہے کہ اس مدرسے کے لئے صدقۂ فطر اور قربانی کی کھالیں اور زکوٰۃ لینا درست ہے کہ نہیں؟
سوال میں مذکور مدرسہ میں اگر واقعۃْ کوئی مصرفِ زکوٰۃ نہ ہو تو ایسے مدرسہ کیلئے زکوٰۃ، صدقہ فطر اور قربانی کی کھالیں لینا جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے۔
اور اگر مدرسہ کا مذکور پانی فقط مدرسہ کے طلباء کیلئے ہی وقف ہو تو اس کے بیچنے سے بھی احتراز ضروری ہے۔
قال اللہ تبارك وتعالٰی: ﴿انما الصدقات للفقراء والمساکین والعاملین علیها والمؤلّفة قلوبهم وفی الرّقاب والغارمین وفی سبیل اللہ وابن السّبیل فریضة من اللہ واللہ علیم حکیم﴾. (التوبة)
وفی الشامیة: وهو (یعنی مصرف الزکاة) مصرف ایضًا لصدقة الفطر والکفارة والنذر (وغیر ذلك من الصدقات الواجبة) کما فی القهستانی. (۲/ ۳۳۹)
وفی الدر المختار: (ویتصدّق بجلدها أو یعمل منه نحو غربال وجراب) (۶/ ۳۲۸)-