مصارف زکوۃ و صدقات

اگر کسی کے پاس نصاب کے بقدر نقد رقم موجود ہو تو اس پر زکوٰۃ اور قربانی لازم ہوگی؟

فتوی نمبر :
21080
| تاریخ :
2013-12-04
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

اگر کسی کے پاس نصاب کے بقدر نقد رقم موجود ہو تو اس پر زکوٰۃ اور قربانی لازم ہوگی؟

ایک مسئلہ کے بارے میں دریافت کرناہے کہ آیا جس طرح ساڑھے سات تولہ سونا اور ساڑھے باون تولے چاندی پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو اگر ایک آدمی کے پاس نصاب کے چاندی کی قیمت ہے مثلاً آج کل ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ۶۰۰۰ ہے لہٰذا اگر ایک آدمی کے پاس ۶۰۰۰ روپے ہو اور اس پر سال گزر جائے تو اس پر زکوٰۃ اور اضحیہ واجب ہوگی یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جی ہاں! اگر کسی کے پاس قرض اور حاجات اصلیہ سے فارغ سونا یا چاندی کے نصاب کی بقدر نقد رقم موجود ہو تو اس پر قربانی اور صدقہ فطر واجب ہے اور اگر اس رقم پر سال بھی گزر جائے تو پھر زکوٰۃ بھی لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الفقه الاسلامی: وبحث فقهاء العصر حکم زکوٰة هذه النقد والورقیة فقررو وجوب الزکاة فیها عند جمهور الفقهاء (الحنفیة والمالکیة والشافعیة)
وایضا ولا تجب الزکاة علی الاوراق النقدیة الا ببلوغها النصاب الشرعی. (۲/ ۷۷۳) واللہ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ارشد على عالم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 21080کی تصدیق کریں
0     1044
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات