کیا بغیر طلاق کے اسی لڑکی سے دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں؟ پہلی بار کم لوگ تھے اب سب کے سامنے کرنا ہے، کیا یہ شرعی اور قانونی لحاظ سے جائز ہے ؟
کسی بھی غرضِ صحیح کی بناء پر تجدیدِ نکاح کرنا جائز اور درست ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
كما في رد المحتار: (قوله: واعلم أن تعلم العلم إلخ) أي العلم الموصل (الى قوله) والاحتياط أن يجدد الجاهل إيمانه كل يوم ويجدد نكاح امرأته عند شاهدين في كل شهر مرة أو مرتين۔اھ (1/ 42)