میرے ایک دوست کا بھائی جو کہ پیدائشی معتوہ ہے اور حالتِ صغر میں اس کا نکاح بذریعہ مؤکل کیا گیا ہے، اب بذریعہ جرگہ قبل از رخصتی فریقین نے یہ طے کیا ہے کہ ہم بذریعہ جج اس نکاح کو فسخ کر دیں گے، لیکن بعد میں اسی جرگے نے کچھ دن کے بعد لڑکی کا دوسری جگہ نکاح کر دیا ، آیا اس صورت میں فسخِ نکاح جائز ہے؟ اور یہ دوسرا نکاح جائز ہے؟
سائل کے دوست کے بھائی کا صغر سنی میں بذریعہ اولیاء نکاح ہوا تھا تو یہ نکاح شرعاً بھی درست واقع ہوا ہے، اب اس نکاح کو باضابطہ ختم کیے بغیر لڑکی کا دوسری جگہ نکاح کرنا نکاح پر نکاح ہونے کی وجہ سے حرام بلکہ باطل ہوا ہے، اس لئے دوسرے نکاح کو ختم کر کے لڑکی کو اس کے دوسرے شوہر سے علیحدہ کرنالازم ہے، اس کے بعد اگر علیحدگی ناگزیر ہو تو پہلے شوہر سے فسخِ نکاح کے بعد اس کا دوسری جگہ نکاح بھی درست ہوگا ۔
كما الفتاوى الهندية: لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره اھ (1/ 280)