(۱) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سنن اور نوافل کے بعد اجتماعی طور پر دعا مانگنا اور اس کو مستحب اور ثواب سمجھ کر کرنا کیسا ہے؟
(۲) ایصالِ ثواب کیلئے میت کے گھر میں جمع ہونا اور اہلِ بیت کا اس میں اور مقررہ دنوں میں لوگوں کیلئے کھانا تیار کرنا مثلاً تین دن کے اندر میت کے گھر سے کھانا، جمعہ کی رات، چالیسواں اور سالواں کرنا کیسا ہے؟ برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔
(۱) قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے اس دعا کو بہ ہیئتِ اجتماعیہ، علی سبیل الالتزام مانگنے کا کوئی ثبوت نہیں، اور اس کے بدعت ہونے میں بھی کوئی شبہ نہیں لہٰذا اس عمل کو مذکور اور مروّجہ طریقہ پر بجا لانے سے احتراز لازم ہے۔
(۲) ایصالِ ثواب کا مروّجہ اور سوال میں مذکور طریقہ شرعاً ثابت نہیں، یہ بدعتِ محض ہے، جس سے احتراز لازم ہے اگر کسی کو ایصالِ ثواب مقصود ہو تو وہ اپنے طور پر نوافل تلاوت کلام پاک، کسی بھی نیک کام میں شرکت یا روزہ وغیرہ کا اہتمام کرکے ان امور کا ثواب کسی زندہ یا مردہ کو بخش دے، تو یہ عمل بلاشبہ جائز اور درست ہے اور اس کا ثواب بھی اس شخص کو پہنچتا ہے۔
فی مشکوٰۃ المصابیح: عن جابر رضی اللہ عنہ قال، قال رسول اللہ ﷺ اما بعد، فان خیر الحدیث کتاب اللہ وخیر الھدیٰ، ھدی محمد ﷺ، وشر الامور محدثاتھا، وکل بدعۃ ضلالۃ۔ (ص۲۷)
عن عبد اللہ بن شقیقؓ قال سألت عائشۃ رضی اللہ عنہا عن صلوٰۃ رسول اللہ ﷺ فقالت کان یصلی فی بیتی قبل الظھر اربعًا ثم یخرج فیصلی بالناس الظھر، ثم یدخل فیصلی رکعتین ثم یخرج فیصلی بالناس العصر او یصلی بالناس المغرب، ثم یدخل فیصلی رکعتین ثم یصلی بالناس العشاء، ثم یدخل فی بیتی فیصلی رکعتین۔ (ابو داؤد: ج۱، ص۱۷۸)
فی الشامیۃ: ویکرہ اتخاذ الضیافۃ من الطعام من اھل البیت لانہ شرع فی السرور لا فی الشرور، وھی بدعۃ مستقبحۃ، وروی الامام احمد وابن ماجہ باسناد صحیح عن جریر عبد اللہؓ قال کنا نعد الاجتماع الی اہل المیت وصنعھم الطعام من النیاحۃ اھ وفی البزازیۃ: ویکرہ اتخاذ الطعام فی الیوم الاول والثالث، وبعد الاسبوع۔ (ج۲، ص٢٤٠) واللہ اعلم بالصواب