السلام علیکم! حضرت پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ ایک لڑکی خود سے لڑکے کو پسند کرے، پھر اپنے گھر والوں کو کیسے کہے کہ میں یہاں شادی کرنا چاہتی ہوں، لیکن اگر گھر والے منع کریں تو پھر ناراض ہو جائے تو گھر کے سرپرست لڑکی کی ضد کے آگے سرخم کر لیں اور نکاح کر لیں اور نکاح کردیں، تو کیا اس صورت میں لڑکی کو یا اس کے سر پرست کو کوئی گناہ ہو گا یا نہیں ؟ اللہ آپ کو اجر عظیم عطاء فرمائے ۔
اگر لڑکے میں یا اس جگہ عقد نکاح کر لینے میں کوئی شرعی عیب نہ ہو،تو لڑکی اور اس کا سرپرست اسی جگہ عقد نکاح کر لینے کی صورت میں گناہ گار نہیں ہوں گے، البتہ لڑکی کا مذکور طرز عمل شرعا ناپسندیدہ اور معیوب ہے ۔