کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسائل کے متعلق :
(1) اکثر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی جوتا الٹا پڑا ہوا ہو تو اس کو سیدھا کر دیا جاتا ہے اور وجہ یہ بتلائی جاتی ہے کہ اس طرح اللہ تعالی کی بے ادبی لازم آتی ہے کیا یہ بات درست ہے یا نہیں ؟
(2) اکثر اردو اخبارات کافی تعداد میں نیچے پڑی ہوتی ہیں کہ جس میں اللہ تعالی اور انبیاء کرام علیہم السلام کے نام بھی لکھے ہوئے ہوتے ہیں بعض اوقات جگہ جگہ کافی زیادہ تعداد میں ہوتی ہیں تو پھر ایسی صورت میں کیا کیا جائے ؟
(۱) جوتا الٹا رکھنے میں خداتعالیٰ کی بے ادبی کا اعتقاد رکھنا بے اصل ہے جو عوام میں غلط مشہور ہے، البتہ جوتے الٹے رکھنا خلاف ادب اور بے طریقہ کام ہے اس سے کراہت محسوس ہوتی ہے اس لئے اس کو سیدھا کر کے رکھنا چاہیے ۔
(۲) اخبارات میں اللہ تعالیٰ کا نام یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھا ہوا ہو اور نیچے گرے ہوئے ہوں تو ایسے اخبارات کے اس حصے کو اٹھا کر کسی مناسب جگہ ڈالنا چاہیے تاکہ بے ادبی نہ ہو ۔
ففي الدر المختار: المصحف إذا صار بحال لا يقرأ فيه يدفن كالمسلم اھ (1/ 177)
و في حاشية ابن عابدين: (قوله: يدفن) أي يجعل في خرقة طاهرة ويدفن في محل غير ممتهن لا يوطأ. (إلی قوله) وأما غيره من الكتب فسيأتي في الحظر والإباحة أنه يمحى عنها اسم الله تعالى وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن اهـ (1/ 177)
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1