السلام علیکم! میں پینتیس سال کی مسلمان عورت ہوں، میں ایک عقد نکاح میں تھی،دولہا اور میں قاضی کے سامنے کمرے میں موجود تھے، حق مہر بھی طے ہوا تھا ، اور ہمارے علاوہ وہاں دوسرا کوئی نہیں تھا، صرف میں دولہا اور قاضی اس نکاح کے بارے میں جانتے ہیں، کیا اس طریقے سے نکاح منعقد ہو گیا ؟ اگر نہیں ہوا تو قاضی کے اس فعل کا کیا اعتبار ہوگا؟ آپ کا بہت جلد جواب چاہیئے تاکہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچ جاؤں، میں جانتی ہوں کہ کسی کے ای میل کا جواب دینا کتنا مشکل ہے آپ کیلئے، لیکن مجھے جلد از جلد فتویٰ چاہیئے تاکہ میں گناہ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچ سکوں، آپ کے جلد جواب کی شکر گزار ہو ں گی ۔ جزاک اللہ خیراً
نکاح کے منعقد ہونے کیلئے کم از کم دو مسلمان عاقل، بالغ گواہوں کا مجلس نکاح میں موجود ہونا اور عاقدین کے ایجاب و قبول کو سننا لازم ہے جو کہ اس مذکور نکاح میں مفقود ہے، اس لئے یہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا، لہذا سائلہ اور اس کے ہونے والے شوہر پر لازم ہے کہ دوبارہ دو گواہوں کی موجودگی میں حق مہر کے تقرری کے ساتھ نکاح کریں تاکہ یہ نکاح شرعاً بھی درست ہو،اور ان کا میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرنا بھی جائز اور حلال ہو۔
کما في الفتاویٰ الهندية: ويشترط العدد فلا ينعقد النكاح بشاهد واحد هكذا في البدائع اھ (1/ 267)
وفي البحر الرائق: (قوله عند حرين أو حر وحرتين عاقلين بالغین مسلمین ولو فاسقين او محدودين أو اعمين أو إبني العاقدين) (الى قوله) لايجوز الا أن يجدد عقداً بحضرتهم۔اھ (3/ 88)