نکاح

کیا شیعہ کا نمازجنازہ پڑھنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

فتوی نمبر :
24497
| تاریخ :
2020-10-26
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیا شیعہ کا نمازجنازہ پڑھنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

السلام علیکم! کیا ایک آدمی باوجود معلوم ہونے کہ کہ یہ مرنے والا شخص شیعہ ہے اور صحابہ کرام پر تبرا بھی کرتاہے اور پھر اس شیعہ شخص کا جنازہ پڑھتاہے تو کیا جنازہ پڑھنے والے کا نکاح ٹوٹ جاتاہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جانتے ہوئے کسی ایسے شیعہ کی نماز جنازہ پڑھنا جو کفریہ عقائد (جیسے قرآن میں تحریف کا قائل ہونا ،حضرت علیؓ کو خدا ماننا ،حضرت ابوبکرؓ کی صحابیت کا انکار کرنا ،حضرت عائشہؓ پر تہمت لگانا وغیرہ) رکھتاہو، ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے ،تاہم اس سے نکاح نہیں ٹوٹتا ،لیکن آئندہ اس طرح کسی شیعہ کی نماز جنازہ میں شامل ہونے سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

في الفتاوی الشامية: نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن اھ (۴/۲۳۷)۔
وفي روح المعانی تفسیر الآلوسي: ولا تصل على أحد منهم مات أبدا إشارة إلى إهانتهم بعد الموت (ٳلی قوله)والمراد من الصلاۃ المنهي عنها صلاۃ المیت المعروفة، وہی متضمنة للدعاء، والاستغفار، والاستشفاع له اھ (۶/۱۵۴)۔
وفي البحر الرائق شرح کنزالدقائق: قوله(وشرطها ٳسلام المیت وطهارته)فلا تصح علی الکافر للآية ’’ولا تصل علیٲحد منهم مات ٲبدا‘‘ اھ (۲/۱۷۹) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد البصیر عزیز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 24497کی تصدیق کریں
0     892
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات