نکاح

لے پالک لڑکی کے نکاح میں اسکے حقیقی والد کا نام نہ لینے سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
24556
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لے پالک لڑکی کے نکاح میں اسکے حقیقی والد کا نام نہ لینے سے نکاح کا حکم

میرا نکاح ایسی لڑکی سے ہوا ہے جو لے پالک ہے ، میرا مسئلہ یہ ہے کہ نکاح نامہ کے فارم میں لڑکی کے حقیقی والد کا نام نہیں لکھا گیا ہے بلکہ لے پالک کا نام لکھا ہے اور نکاح کے وقت بھی اُسی لے پالک کا نام پکارا تھا، کیا ہمارا نکاح ہو گیا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل اور نکاح کے گواہوں کو اگر تعیین کے ساتھ معلوم تھا کہ لے پالک لڑکی ہے یا وہ خود مجلس نکاح میں موجود تھی تو یہ نکاح درست منعقد ہو چکا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في رد المحتار : تحت (قوله: ولا المنكوحة مجهولة) (الی قوله) قلت: وظاهره أنها لو جرت المقدمات على معينة وتميزت عند الشهود أيضا يصح العقد وهي واقعة الفتوى؛ لأن المقصود نفي الجهالة، وذلك حاصل بتعينها عند العاقدين والشهود، وإن لم يصرح باسمها۔اھ (3/ 15)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 24556کی تصدیق کریں
0     484
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات