میرا نکاح ایسی لڑکی سے ہوا ہے جو لے پالک ہے ، میرا مسئلہ یہ ہے کہ نکاح نامہ کے فارم میں لڑکی کے حقیقی والد کا نام نہیں لکھا گیا ہے بلکہ لے پالک کا نام لکھا ہے اور نکاح کے وقت بھی اُسی لے پالک کا نام پکارا تھا، کیا ہمارا نکاح ہو گیا ہے ؟
سائل اور نکاح کے گواہوں کو اگر تعیین کے ساتھ معلوم تھا کہ لے پالک لڑکی ہے یا وہ خود مجلس نکاح میں موجود تھی تو یہ نکاح درست منعقد ہو چکا ہے۔
کما في رد المحتار : تحت (قوله: ولا المنكوحة مجهولة) (الی قوله) قلت: وظاهره أنها لو جرت المقدمات على معينة وتميزت عند الشهود أيضا يصح العقد وهي واقعة الفتوى؛ لأن المقصود نفي الجهالة، وذلك حاصل بتعينها عند العاقدين والشهود، وإن لم يصرح باسمها۔اھ (3/ 15)