نکاح

رضاعی بہن سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
24694
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

رضاعی بہن سے نکاح کا حکم

میرا سوال یہ ہے کہ رضاعی بہن کتنی بار دودھ پینے سے ہوتی ہے؟ایک بار یا پانچ بار؟ میری کزن سے میری منگنی ہوگئی ہے،اب یہ پتہ لگا کہ اس نے میری امی کا ایک بار دودھ پیا تھا،کیا اب وہ میرے لئے حلال ہے یا حرام ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کی کزن نے اگر ایک بار اس کی والدہ کا دودھ پیا تھا اور اس پر گواہان بھی موجود ہوں،تو اس سے حرمتِ رضاعت ثابت ہونے کی وجہ سے وہ سائل کی رضاعی بہن بن گئی ہے،اور سائل کا اس سے نکاح کرنا جائز نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ (النساء:23 الآیة)
وفی مشکوة المصابیح: عن عائشة قالت: قال رسول اللہ ﷺ یحرم من الرضاعة مایحرم من الولادة (1/273)۔
وفی الدر المختار: (ويثبت به) ولو بين الحربيين بزازية (وإن قل) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير الخ (وفی رد المحتار: تحت) (قوله وإن قل) أشار به إلى نفي قول الشافعي وإحدى الروايتين عن أحمد أنه لا يثبت التحريم إلا بخمس رضعات مشبعات اھ(3/212)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 24694کی تصدیق کریں
0     500
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات