نکاح

ولی کی موجودگی کے بغیر کیے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
24706
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

ولی کی موجودگی کے بغیر کیے ہوئے نکاح کا حکم

میں نے ایک لڑکی سے نکاح کیا اس کی ماں اور بہنوں کی موجودگی میں، اس کا ایک چھوٹا بھائی بھی ہے جو کہ اس کے خاندان کا مذکر فرد ہے، وہ نکاح کے وقت موجود نہیں تھا لیکن اس نے اپنی والدہ کو بطور ولی بنایا، نکاح کے وقت ہم اس کے چھوٹے بھائی کو کال کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ ملک میں نہیں تھا اور اس سے رابطہ نہ ہو سکا، لہذا اس کی ماں نے ولی بننے کی اجازت لی، کیا یہ جائز ہے کہ جب خاندان کا مذکر فرد نکاح کے وقت موجود نہ ہو تو اسکی ماں کو ولی بنایا جائے ؟کیا نکاح جائز ہے؟ کیا ہم دوبارہ نکاح کریں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مجلس نکاح میں اگر چہ لڑکی کا مرد ولی موجود نہیں تھا مگر جب اس کی اور خود عاقلہ بالغہ لڑکی کی اجازت اور رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں مذکور نکاح ہوا ہے تو یہ شرعاً بھی درست منعقد ہوا ہے، بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الهداية: وينعقد نكاح الحرة العاقلة البالغة برضاها وإن لم يعقد عليها ولى بكرا كانت أو ثيبا۔اھ (2/335)
وفیه أیضاً: قال: " ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف " قال رضي الله عنه اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح۔اھ (1/285)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 24706کی تصدیق کریں
0     600
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات