نکاح

فون پر نکاح میں اللہ و رسول کو گواہ بنانے سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
25182
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

فون پر نکاح میں اللہ و رسول کو گواہ بنانے سے نکاح کا حکم

اگر فون پر لڑکا اور لڑکی خود سے نکاح پڑھیں اور اللہ اور اس کے رسول کو حاضر و ناظر جان کر گواہ بنائیں اور باہمی رضامندی سے مہر مقرر کرلیں تو کیا نکاح ہو جائے گا ؟ نکاح یوں ہوا کہ لڑکا لڑکی کا نام والد کے نام کے ساتھ لے کر پوچھے کہ تمہیں نکاح قبول ہے؟ اور لڑکی تین مرتبہ رضا مندی دے دے، اسی طرح لڑکی لڑکے سے پوچھے تو کیا نکاح ہو گیا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صحت نکاح کیلئے متعاقدین کا مجلس نکاح میں ہونا اور گواہوں کےسامنے ایجاب و قبول کرنا کہ گواہ بھی سنیں شرط ہے، صورت مسئولہ میں مذکور طریقہ کے موافق فون پر نکاح کرنے سے یہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوتا ہے اس لئے اس سے احترار لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الهداية: قال رجل بحضرة شاهدين تزوجت فلانة وهى غائبة فبلغها الخبر فقالت زوجت نفسى منه لم يجز۔اھ (1/269)
وفي الدر المختار: (وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليحقق رضاهما وشرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وامراتين (مكلفين سامعين قولهما معا)۔اھ (3/22)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 25182کی تصدیق کریں
0     532
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات