میں ایک سنی لڑکی ہوں 25 سال کی اور میں ایک شیعہ لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہوں، جس کی عمر 26 سال ہے۔ ہم ایک دوسرے کو 10 سال سے جانتے ہیں، دماغ ملتے ہیں ہم دونوں کے اس کا عقیدہ اور نیت میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں اس کو دیکھتے ہوئے بتائیے گا کہ . کہ ہماری شادی شرعی طور پر جائز ہے اور اگر جائز نہیں تو ایسا کیا حل ہے جس سے شادی جائز ہو جائے۔
میں اللہ کو ایک مانتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ لاشریک ہے جو کسی کو اس کا شریک مانتا ہے وہ مسلمان نہیں، میرے نظر میں اللہ نے ۱۲۴۰۰۰ انبیاء بھیجے اور جس میں آخری ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علی وسلم ہیں وہ اللہ کی آخری نبی ہے اور اللہ نے 4 کتابیں نازل کی جس میں قرآن مجید ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہمارے نبی کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا یہ ہمارا عقیدہ ہے میں بارہ امام کا ماننے والا ہوں ہم امامت کے قائل ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ نبوت کا اختتام نہیں ہوا کوئی نہ کوئی تو چاہیے تھا جو کہ لوگوں کی ہدایت کر سکے تو اللہ نے امامت کا سلسلہ شروع کیا جس میں پہلا امام حضرت علی ؓ ہیں اس طرح بارہ امام آئے جبکہ بارہویں امام غیبت میں ہیں جب قیامت آئے گئی تو اس سے پہلے بارہویں امام مہدی کا نزول ہوگا ہم شیعہ حضرت علیؓ کو اللہ نہیں مانتے نہ مان سکتے ہیں، کیونکہ جس نے اللہ کو کسی کا شریک کیا وہ مسلمان نہیں علیؓ امام ہیں جو محمد ﷺ کے بعد آئے ہیں ، زنجیر کے ماتم کو میں نہیں مانتا میں صرف ہاتھ کا کرتا ہوں۔
اگرچہ مذکور شیعہ لڑکا کافر نہ ہو، مگر سنی العقیدہ لڑکی کا کفو نہیں، اس لیے سنی لڑکی کا اس کے ساتھ عقد نکاح درست نہیں، اس سے احتراز اور اپنے بڑوں کے ذریعہ کسی سنی العقیدہ لڑکے کے ساتھ عقد نکاح لازم ہے۔