مفتی صاحب! میرا ایک سوال ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ ایک غیر شادی شدہ مرد نے ایک شادی شدہ عورت سے جماع کر لیا، پھر اُس مرد نے اس عورت کی لڑکی سے بھی جماع کر لیا ، پھر اُس لڑکے اور لڑکی کے درمیان محبت ہو گئی، اب اس لڑکی نے لڑکے سے کہہ دیا کہ اگر تم مجھ سے شادی نہیں کرو گے ،تو میں خود کشی کر لوں گی، اور ضرور وہ لڑکی ویسا کر لے گی، میری مفتی صاحب سے گزارش ہے کہ مہر بانی فرما کر مجھے اس مسئلہ کا جواب بتائیں کہ ان کا نکاح جائز ہوگا یا نہیں ؟ اس بارے میں علماء کا فتوی کیا ہے ؟ ہدایہ کتاب کی نکاح کے باب میں امام ابو حنیفہؒ اور امام شافعیؒ کے درمیان اس مسئلہ میں اختلاف ہے ، کیا دونوں اماموں کا اپنے اپنے قولوں پر فتوی ہے ؟
مذکور لڑکے کا ایسی عورت کی لڑکی سے نکاح کرنا جس سے اس نے زنا کیا ہو ، شرعاً نا جائز اور حرام ہے ، جس سے احتراز لازم ہے، اس لئے مذکور لڑکی کو سمجھا کر اس عمل سے روکا جائے ۔
کما فی الفتاوى الهندية: فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت۔اھ (1/ 274)
وفی رد المحتار: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا۔اھ (3/ 32)