اگر کوئی مرد اور خاتون نکاح سے پہلے زنا کے مر تکب ہوئے ہیں، تو کیا ان کا آپس میں نکاح جائز ہوگا؟
جی ہاں! زانی کا مزنیہ کے ساتھ نکاح کرنا شرعا جائز ہے، البتہ ان دونوں کو اپنے سابقہ گناہ کبیرہ (زنا) پر توبہ و استغفار کرنا لازم ہے ۔
کما فی الدر المختار: صح نكاح (الموطوءة بملك) يمين ولا يستبرئها زوجها بل سيدها وجوبا على الصحيح ذخيرة (أو) الموطوءة (بزنى) أي جاز نكاح من رآها تزني اھ (3/49)
وفیه أیضاً: صح نكاح (حبلى من زنى لا) حبلى (من غيره) اھ (3/ 48)
وفي الهداية: وإن تزوج حبلى من زنا جاز النكاح ولا يطؤها حتى تضع حملها " وهذا عند أبي حنيفة ومحمد وقال أبو يوسف رحمه الله النكاح فاسد "وإن كان الحمل ثابت النسب (الى قوله) والفتوى على قولهما اھ (2/ 312)