نکاح

اولیاء کی رضامندی کے بغیر کیے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
25753
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

اولیاء کی رضامندی کے بغیر کیے ہوئے نکاح کا حکم

میری شادی چار سال پہلے ہوگئی ہے اور میرے سسرال والوں کو پتہ نہیں،کیونکہ جس سے میری شادی ہوئی ہے،وہ ایک حافظِ ہے اور میری ان سے ملاقات میرے گھر پر ہوئی تھی،وہ مجھے پڑھانے آتے تھے تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں اچھی لگتی ہوں،لیکن میں نے تب کوئی توجہ نہیں دی،لیکن پھر ہماری بات فون میں ہونے لگی اور لگاؤ ہوگیا، انہوں نے شادی کرنے سے پہلے رشتہ بھیجا تھا،لیکن گھر والے نہیں مانے،ہماری بات چیت ہوتی رہی،ان کو بیوی کی سخت ضرورت تھی،تو وہ مجھے نکاح کیلئے بولے تو میں تیار ہوگئی اور ہم لوگوں نے نکاح کرلیا اور ہم دونوں میاں بیوی کی طرح رہنے لگے،اس دوران ان کے والد کو پتہ چل گیا کہ مجھ سے ملتے ہیں،انہوں نے بتا دیا کہ ہم لوگوں نے نکاح کرلیا،لیکن ان کے گھر والے نہیں مانے اور ماما کی بیٹی سے شادی کرنے کو کہہ رہے ہیں،میرا شوہر نہیں مان رہا،اب اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ کا نکاح کفو میں اور مہرِ مثل پر ہوا ہو تو مذکور نکاح والدین اور اولیاء کی رضامندی کے بغیر بھی درست منعقد ہوچکا ہے،مگر جوان لڑکی کا اولیاء کی رضامندی کے بغیر نکاح اور شادی کا فیصلہ کرنا بڑی بے شرمی اور بےحیائی پر مبنی عمل ہے،شریف خاندان میں اس عمل کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے،اس لئے سائلہ اور اس کے شوہر کو چاہیئے کہ اپنے والدین کو اس نکاح کے متعلق بتا کر اعتماد میں لیں،تاکہ آئندہ زندگی میں مشکلات پیدا نہ ہوں،ورنہ اس طرح کے نکاح طلاق اور خلع پر منتج ہوجاتے ہیں،جبکہ سائلہ اور اس کے شوہر اگر والدین کو اعتماد میں لیں تو دوسری شادی کی نوبت بھی نہ آئے گی،تاہم اگر پھر بھی وہ دوسری شادی پر مصر رہیں اور شوہر دو بیویوں کے نان ونفقہ پر بھی قادر ہو تو سائلہ کو اس سلسلہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیئے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھدایة: وینعقد نکاح الحرة العاقلة البالغة برضائھا وان لم یعقد علیھا ولی بکراً کانت أو ثیباً اھ (2/313)۔
وفیه أیضاً: و اذا زوجت المرأة نفسھا من غیر کفؤ فللأولیاء أن یفرقوا بینھما اھ
اھ (2/320)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 25753کی تصدیق کریں
0     525
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات